Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Ar-Rum 30:52

30:52
فانك لا تسمع الموتى ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرين ٥٢
فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ ٥٢
فَإِنَّكَ
لَا
تُسۡمِعُ
ٱلۡمَوۡتَىٰ
وَلَا
تُسۡمِعُ
ٱلصُّمَّ
ٱلدُّعَآءَ
إِذَا
وَلَّوۡاْ
مُدۡبِرِينَ
٥٢
Воистину, ты не заставишь слышать мертвецов и не заставишь глухих услышать призыв, когда они обращаются вспять.
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 30:48 до 30:53

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔

خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔