Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Al-Qasas 28:49

28:49
قل فاتوا بكتاب من عند الله هو اهدى منهما اتبعه ان كنتم صادقين ٤٩
قُلْ فَأْتُوا۟ بِكِتَـٰبٍۢ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ هُوَ أَهْدَىٰ مِنْهُمَآ أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٤٩
قُلۡ
فَأۡتُواْ
بِكِتَٰبٖ
مِّنۡ
عِندِ
ٱللَّهِ
هُوَ
أَهۡدَىٰ
مِنۡهُمَآ
أَتَّبِعۡهُ
إِن
كُنتُمۡ
صَٰدِقِينَ
٤٩
Скажи: «Если вы говорите правду, то принесите Писание от Аллаха, которое было бы более верным руководством, чем эти два Писания, и я последую за ним».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 28:49 до 28:51

حق کے پیغام کو ماننے یا نہ ماننے کا جو اصل معیار ہے وہ یہ ہے کہ پیغام کو خود اس کے جوہر ذاتی کی بنیاد پر جانچا جائے۔ اگر وہ اپنی ذات میں برتر صداقت ہونا ثابت کررہا ہو تو یہی کافی ہے کہ اس کو مان لیا جائے۔ اس کے بعد ا س کو ماننے کے ليے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔

صداقت کا جواب صداقت ہے۔ اگرآدمی صداقت کا انکار کرے اور اس کے جواب میں دوسری اعلیٰ تر صداقت نہ پیش کرسکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواہش پرستی کی وجہ سے اس کا انکار کررہا ہے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو کہ وہ صداقت کو معقولیت کے ذریعہ رد نہ کرسکیں اور پھر بھی خواہش اور تعصب کے زیر اثر اس کو نہ مانیں وہ بدترین گمراہ لوگ ہیں۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں ظالموں میں شمار ہوں گے۔