Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Tazkir ul Quran Тафсир: An-Naml Ая 32

27:32
قالت يا ايها الملا افتوني في امري ما كنت قاطعة امرا حتى تشهدون ٣٢
قَالَتْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَفْتُونِى فِىٓ أَمْرِى مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ٣٢
قَالَتۡﲧ
يَٰٓأَيُّهَاﲨ
ٱلۡمَلَؤُاْﲩ
أَفۡتُونِيﲪ
فِيٓﲫ
أَمۡرِيﲬ
مَاﲭ
كُنتُﲮ
قَاطِعَةًﲯ
أَمۡرًاﲰ
حَتَّىٰﲱ
تَشۡهَدُونِﲲ
٣٢ﲳ
Она сказала: «О знать! Посоветуйте, как мне поступить. Я никогда не принимала решений самостоятельно, пока вы находились рядом со мной».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 27:27 до 27:35

حضرت سلیمان کی قوت وسلطنت ایک خدائی عطیہ تھی۔ اسی طرح آپ نے سبا کی حکومت کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی ایک خدائی معاملہ تھا۔ شاہ عبدالقادر دہلوی آیت 37 کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زورتھا جو یہ فرمایا‘‘۔

ملکہ سبا (بلقیس) نے معاملہ کو خالص حقیقت پسندانہ انداز سے دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کرلیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ تاہم ملکہ نے ابتدائی اندازوں کے لیے تحفے بھیجنے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلیمان ہماری دولت کے خواہش مند ہیں یا اس سے آگے ان کا ہم سے کوئی اصولی مطالبہ ہے۔