Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Al-Baqarah 2:107

2:107
الم تعلم ان الله له ملك السماوات والارض وما لكم من دون الله من ولي ولا نصير ١٠٧
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍ ١٠٧
أَلَمۡ
تَعۡلَمۡ
أَنَّ
ٱللَّهَ
لَهُۥ
مُلۡكُ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۗ
وَمَا
لَكُم
مِّن
دُونِ
ٱللَّهِ
مِن
وَلِيّٖ
وَلَا
نَصِيرٍ
١٠٧
Разве ты не знаешь, что Аллаху принадлежит власть над небесами и землей, и что нет у вас, кроме Аллаха, ни покровителя, ни помощника?
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис

جن الفاظ میں مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ ” تمہاری خبر گیری کرنے والا اور تمہاری مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ “ ان سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ان سے بیک وقت تنبیہ اور تذکیر مطلوب ہے۔ غائبانہ تنبیہ کا انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ بعض لوگ یہودیوں کے اس گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہوگئے تھے ۔ اور ان کی جانب سے پیدا کردہ شر انگیزی سے مرعوب ہوکر وہ نبی ﷺ سے ایسے سوالات کرنے لگے تھے ، جو مکمل اعتماد اور پختہ یقین سے میل نہ کھاتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے ایسے سوالات کو ناپسند کیا اور واضح طور پر انہیں تنبیہ کی ۔