Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Tazkir ul Quran Тафсир: Yusuf Ая 3

12:3
نحن نقص عليك احسن القصص بما اوحينا اليك هاذا القران وان كنت من قبله لمن الغافلين ٣
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَـٰفِلِينَ ٣
نَحۡنُﲠ
نَقُصُّﲡ
عَلَيۡكَﲢ
أَحۡسَنَﲣ
ٱلۡقَصَصِﲤ
بِمَآﲥ
أَوۡحَيۡنَآﲦ
إِلَيۡكَﲧ
هَٰذَاﲨ
ٱلۡقُرۡءَانَﲩ
وَإِنﲪ
كُنتَﲫ
مِنﲬ
قَبۡلِهِۦﲭ
لَمِنَﲮ
ٱلۡغَٰفِلِينَﲯ
٣ﲰ
Мы рассказываем тебе самый прекрасный рассказ, внушая тебе в откровении этот Коран, хотя прежде ты был одним из тех, кто ничего не ведал об этом.
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 12:1 до 12:3

قرآن اگرچہ ساری دنیا کی ہدایت کے لیے آیاہے۔ تاہم اس کے مخاطبِ اوّل عرب تھے۔ اس لیے وہ عربی زبان میں اترا۔ اب اس پر ایمان لانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تعلیمات کو ہر زبان میں منتقل کریں۔ اور ا س کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچائیں۔

قرآن کی تعلیمات قرآن میں مختلف انداز اور اسلوب سے بیان کی گئی ہیں۔ کہیں وہ کائناتی استدلال کی زبان میں ہیں، کہیں انذار اور تبشیر کی زبان میں اور کہیں تاریخ کی زبان میں۔ سورہ یوسف میں یہ پیغام حضرت یوسف کے قصہ کی شکل میں سامنے لاياگیا ہے۔ اس سورہ میں اہل ایمان کو ایک پیغمبر کی سرگزشت کی صورت میں بتایا گیا ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ حق کے لیے اٹھنے والوں کی مدد کرتاہے۔ اور مخالفین کی تمام سازشوں کے باوجود بالآخر ان کو کامیاب کرتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ اہلِ ایمان کہ اندر تقویٰ اور صبر کی صفت موجود ہو۔ یعنی وہ اللہ سے ڈرنے والے ہوں اور ہر حال میں حق کے راستے پر جمے رہیں۔