Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: At-Tin 95:8

95:8
اليس الله باحكم الحاكمين ٨
أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَحْكَمِ ٱلْحَـٰكِمِينَ ٨
أَلَيۡسَ
ٱللَّهُ
بِأَحۡكَمِ
ٱلۡحَٰكِمِينَ
٨
Разве Аллах не является Наимудрейшим Судьей?
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 95:7 до 95:8

“ اے نبی ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیا کوئی معقول شخص عقیدہ آخرت کے بارے میں آپ کو کوئی جھٹلا سکتا ہے ، خصوصاً جب کہ انسانیت کی قدروقیمت ایمان کا بڑا مقام ہے اور یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کا انجام کس قدر گھناﺅنا ہے جو نور سے محروم ہوتے ہیں اور جن کے ہاتھوں سے اللہ کی مضبوط رسی چھوٹ چکی ہوتی ہے۔

الیس اللہ ................ الحکمین (8:95) ” کیا اللہ سب حاکموں میں سے بڑا حاکم نہیں ہے “۔ کہ وہ سب سے بڑا منصف نہیں ہے ، جبکہ وہ لوگوں کے درمیان یوں انصاف کررہا ہے۔ کیا مومنین کا انجام اور کافرین کا یہ انجام حکمت بالغہ پر مبنی نہیں ہے ؟ انصاف واضح ہے ، حکمت نہایت بلند ہے ، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوع حدیث روایت ہے کہ جب تم میں سے کسی نے سورة تین اور زیتون کو پڑھا اور وہ آخر تک پڑھ چکا اور اس نے پڑھا۔

الیس اللہ ................ الحکمین (8:95) ” تو اسے کہنا چاہئے ” ہاں اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں “۔