Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Al-Anbiya 21:25

21:25
وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحي اليه انه لا الاه الا انا فاعبدون ٢٥
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِىٓ إِلَيْهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعْبُدُونِ ٢٥
وَمَآ
أَرۡسَلۡنَا
مِن
قَبۡلِكَ
مِن
رَّسُولٍ
إِلَّا
نُوحِيٓ
إِلَيۡهِ
أَنَّهُۥ
لَآ
إِلَٰهَ
إِلَّآ
أَنَا۠
فَٱعۡبُدُونِ
٢٥
Мы не посылали до тебя ни одного посланника, которому не было бы внушено: «Нет божества, кроме Меня. Поклоняйтесь же Мне!».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис

ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاعبدون (12 : 52) ” ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو “۔ اللہ نے جب سے لوگوں کی ہدایات کے لیے رسول بھیجے ہیں ان کی دعوت اور تعلیمات کا قاعدہ اساسی عقیدہ توحید رہا ہے۔ آج تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یعنی الہٰ اور معبود ایک ہی ہے۔ وہی رب ہے ‘ الوہیت اور ربوبیت کے درمیان جدائی ممکن نہیں ہے جو الہٰ ہے وہی رب ہے۔ لہٰذا ان تعلیمات میں الوہیت حاکمیت اور بندگی میں کوئی شرک نہیں اور یہ عقیدہ اسی طرح مستحکم ہے جس طرح اس کائنات کا نظام مستحکم ہے۔ یاد رہے کہ رسولوں کی تعلیمات بھی دراصل اس کائنات کے قوانین فطرت کا ایک حصہ ہیں۔

اب روئے سخن ایک دوسرے شرکیہ عقیدے کی طرف مڑجاتا ہے۔ عقائد جاہلیت میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد پید کررکھی ہے۔