Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma
38:70
ان يوحى الي الا انما انا نذير مبين ٧٠
إِن يُوحَىٰٓ إِلَىَّ إِلَّآ أَنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ ٧٠
إِن
يُوحَىٰٓ
إِلَيَّ
إِلَّآ
أَنَّمَآ
أَنَا۠
نَذِيرٞ
مُّبِينٌ
٧٠
Só me tem sido revelado que sou um elucidativo admoestador.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 38:65 a 38:70

یہاں جس اختصام (تکرار) کا ذکر ہے وہ وہی ہے جو اگلی آیت میں منقول ہے یعنی آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس کا بحث وتکرار کرنا۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان پہلے روز سے آدم کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ پرفریب باتوں کے ذریعہ اولاد آدم کو سیدھے راستہ سے بھٹکاتا ہے۔ اس ليے انسان کو چاہيے کہ وہ ہوشیار رہے اور اس سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلہ میں آدمی کی پیدائش کے وقت جو اختصام ہوا اور اس کو قرآن میں بیان کیا گیا وہ سراسر وحی تھا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ملأ اعلیٰ میں موجود نہ تھے کہ ذاتی واقفیت کی بنیاد پر اس کو بیان کرسکتے۔

سب سے اہم خبر انسان کےلیے یہ ہے کہ اس کو زندگی کی اس نوعیت سے آگاہ کیا جائے کہ شیطان ہر لمحہ اس کے پیچھے لگا ہوا ہے، وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں داخل ہو کر اس کو گمراہ کررہا ہے۔ انسان کو چاہيے کہ وہ اس خطرے سے اپنے آپ کو بچائے۔ پیغمبر ایک اعتبار سے اسی ليے آئے کہ انسان کو اس نازک خطرہ سے آگاہ کردیں۔