Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma
34:15
لقد كان لسبا في مسكنهم اية جنتان عن يمين وشمال كلوا من رزق ربكم واشكروا له بلدة طيبة ورب غفور ١٥
لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍۢ فِى مَسْكَنِهِمْ ءَايَةٌۭ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍۢ وَشِمَالٍۢ ۖ كُلُوا۟ مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لَهُۥ ۚ بَلْدَةٌۭ طَيِّبَةٌۭ وَرَبٌّ غَفُورٌۭ ١٥
لَقَدۡ
كَانَ
لِسَبَإٖ
فِي
مَسۡكَنِهِمۡ
ءَايَةٞۖ
جَنَّتَانِ
عَن
يَمِينٖ
وَشِمَالٖۖ
كُلُواْ
مِن
رِّزۡقِ
رَبِّكُمۡ
وَٱشۡكُرُواْ
لَهُۥۚ
بَلۡدَةٞ
طَيِّبَةٞ
وَرَبٌّ
غَفُورٞ
١٥
Os habitantes de Sabá tinham, em sua cidade, um sinal: duas espécies de jardins, à direita e à esquerda. (Foi-lhes dito): Desfrutai de graça de vosso Senhor e agradecei-Lhe. Tendes terra fértil e um Senhor Indulgentíssimo.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

آیت 15 { لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِہِمْ اٰیَۃٌ} ”اسی طرح قوم سبا کے لیے بھی ان کے مسکن میں ایک نشانی موجود تھی“۔ قوم سبا 800 قبل مسیح علیہ السلام کے لگ بھگ یمن کے علاقے میں آباد تھی۔ انہوں نے اپنے پہاڑی علاقوں میں بہت سے بند تعمیر کر رکھے تھے جن میں سب سے بڑے بند کا نام ”سد ِمآرب“ تھا۔ ان بندوں سے انہوں نے چھوٹی بڑی نہریں نکال کر میدانی علاقوں کو سیراب کرنے کا ایک مربوط و موثر نظام بنا رکھا تھا۔ آب پاشی کے اس نظام کے باعث ان کے ہاں باغات کی کثرت تھی۔ باغات کے دو بڑے سلسلے تو سینکڑوں میلوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ بہر حال یہ اپنے وقت کی بڑی خوشحال اور طاقتور قوم تھی ‘ مگر آہستہ آہستہ یہ لوگ مذہبی و اخلاقی زوال کا شکار ہوتے گئے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی نا شکری اور سرکشی کی سزا دی اور ان سے تمام نعمتیں سلب کرلیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کا سب سے بڑا بند سد مآرب ٹوٹ گیا اور یوں ایک خوفناک سیلاب قہر خداوندی بن کر ان پر ٹوٹ پڑا۔ اس سیلاب کی وجہ سے اس قوم پر ایسی تباہی آئی کہ جس علاقے میں سینکڑوں میلوں پر پھیلے ہوئے باغات تھے وہاں جنگلی جھاڑیوں اور بیریوں کے چند درختوں کے علاوہ ہریالی کا نام و نشان تک نہ رہا۔ { جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّشِمَالٍ } ”دو باغات کے سلسلے تھے دائیں اور بائیں طرف۔“ { کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہٗ } ”کھائو اپنے رب کے رزق میں سے اور اس کا شکر اداکرو۔“ { بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ} ”تمہارا شہر بہت پاکیزہ ہے اور تمہارا رب بہت بخشنے والا ہے !“ یعنی تمہارے لیے یہ ایک مثالی صورت حال ہے۔ رہنے کو تمہیں نہایت عمدہ ‘ سرسبز و شاداب اور زرخیز علاقہ عطا ہوا ہے اور تمہارا رب بھی بہت بخشنے والا ہے جو تمہارے ساتھ بہت نرمی کا معاملہ فرما رہا ہے۔