Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Maryam 19:66

19:66
ويقول الانسان ااذا ما مت لسوف اخرج حيا ٦٦
وَيَقُولُ ٱلْإِنسَـٰنُ أَءِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا ٦٦
وَيَقُولُ
ٱلۡإِنسَٰنُ
أَءِذَا
مَا
مِتُّ
لَسَوۡفَ
أُخۡرَجُ
حَيًّا
٦٦
Porém, o homem diz: Quê! Porventura, depois de morto serei ressuscitado?
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

آیت 66 وَیَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَ اِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا ”یہ ان لوگوں کا قول نقل ہوا ہے جو بعث بعد الموت کے منکر تھے۔ مشرکین مکہ کے عقائد کے بارے میں پہلے بھی کئی بار بتایا جا چکا ہے کہ ان میں سے اکثر وبیشتر آخرت کے قائل تھے ‘ اسی لیے تو بتوں کے بارے میں ان کے اس عقیدے کا قرآن میں ذکر ہوا ہے : وَیَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18 ”اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہوں گے۔“