Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Ali 'Imran 3:26

3:26
قل اللهم مالك الملك توتي الملك من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخير انك على كل شيء قدير ٢٦
قُلِ ٱللَّهُمَّ مَـٰلِكَ ٱلْمُلْكِ تُؤْتِى ٱلْمُلْكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلْمُلْكَ مِمَّن تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ ٱلْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ٢٦
قُلِ
ٱللَّهُمَّ
مَٰلِكَ
ٱلۡمُلۡكِ
تُؤۡتِي
ٱلۡمُلۡكَ
مَن
تَشَآءُ
وَتَنزِعُ
ٱلۡمُلۡكَ
مِمَّن
تَشَآءُ
وَتُعِزُّ
مَن
تَشَآءُ
وَتُذِلُّ
مَن
تَشَآءُۖ
بِيَدِكَ
ٱلۡخَيۡرُۖ
إِنَّكَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرٞ
٢٦
Dize: Ó Deus, Soberano do poder! Tu concedes a soberania a quem Te apraz e a retiras de quem desejas; exaltas quemqueres e humilhas a Teu belprazer. Em Tuas mãos está todo o Bem, porque só Tu és Onipotente.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 3:23 a 3:27

اللہ کی ہدایت ایک ہی ہدایت ہے جو مختلف قوموں کی زبان میں ان کے پیغمبروں پر اتاری جاتی رہی ہے۔ وہی قرآن کی صورت میں پیغمبر آخر الزماں پر اتاری گئی ہے۔ اس یکسانیت کی وجہ سے آسمانی کتابوں کو جاننے اور ماننے والوں کے لیے قرآن کی دعوت کو پہچاننا مشکل نہیں۔ قرآن کی دعوت میں اور پچھلی آسمانی تعلیمات میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف یہ کہ قرآن کی دعوت ان کی اپنی ملاوٹوںسے دین خداوندی کو پاک کررہی ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کی دعوت کا انکار کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت کو وہ اپنے لیے کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے۔ اپنے خود ساختہ عقائد کی بنا پر انھوںنے اپنے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرض کرلیا ہے۔ اپنی اس نفسیات کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس حق کا اعتراف نہ کریں تو اس سے ان کی نجات خطرہ میں پڑنے والی نہیں۔ مگر جب خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ وہ محض خوش خیالیوں کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔

ہر قسم کی عزت وطاقت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وقت کے بڑے جس کو بے حقیقت سمجھ لیں، خدا چاہے تو اسی کے حق میں عزت وسر بلندی کا فیصلہ کردے۔ علم کی گدیوں پر بیٹھنے والے جس کے جہل کا فتویٰ دیں، خدا چاہے تو اسی کے ذریعہ علم کا چشمہ جاری کردے۔ خدا کی نظر میں اگر کوئی عزت وطاقت کا مستحق ہوسکتا ہے تو وہ جو اس کو خالص خدا کی چیز سمجھے ا ور خدا کی نظر میں اس کا سب سے زیادہ غیر مستحق اگر کوئی ہے تو وہ جو اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ خدا وسیع تر کائنات میں روزانہ بہت بڑے پیمانہ پر یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی کے اوپر اوڑھا دیتا ہے اور روشنی کو تاریکی کے اوپر ڈال دیتا ہے۔ وہ مردہ عناصر سے زندگی وجود میں لاتا ہے اور زندہ چیزوں کو مردہ عناصر میں تبدیل کرتا ہے۔ خدا کی یہی قدرت اگر انسانی تاریخ میں ظاہر ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں وہ ہمیشہ سچی دعوتِ حق کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ ایسے داعی کو بے گھر کیا جاتا ہے۔ اس کے معاشی ذرائع برباد کيے جاتے ہیں۔ مگر ایسا شخص براہِ راست اللہ کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے خصوصی رزق کا انتظام کرتا ہے۔ دوسروں کو ان کی معاشی محنت کے حساب سے رزق دیا جاتا ہے، اور ایسے شخص کو بلا حساب۔