Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Al-An'am 6:83

6:83
وتلك حجتنا اتيناها ابراهيم على قومه نرفع درجات من نشاء ان ربك حكيم عليم ٨٣
وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَـٰهَآ إِبْرَٰهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَـٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ ٨٣
وَتِلۡكَ
حُجَّتُنَآ
ءَاتَيۡنَٰهَآ
إِبۡرَٰهِيمَ
عَلَىٰ
قَوۡمِهِۦۚ
نَرۡفَعُ
دَرَجَٰتٖ
مَّن
نَّشَآءُۗ
إِنَّ
رَبَّكَ
حَكِيمٌ
عَلِيمٞ
٨٣
Tal foi o Nosso argumento, que proporcionamos a Abraão (para usarmos) contra seu povo, porque Nós elevamos adignidade de quem Nos apraz. Teu Senhor (ó Mohammad) é Prudente, Sapientíssimo.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

آیت 83 وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰہَآ اِبْرٰہِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ط اسی آیت کا حوالہ موضوع کے آغاز میں آیا تھا۔ پوری سرگزشت بیان کرنے کے بعد اب فرمایا کہ یہ ہماری وہ حجت تھی جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اس کی قوم کے خلاف عطا کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم سے جس انداز سے محاجہ کر رہے تھے اس کو توریہکہتے ہیں۔ توریہ سے مراد ایسا انداز گفتگو ہے جس میں جھوٹ بولے بغیر مخاطب کو مغالطے میں مبتلا کردیا جائے۔ مثلاً حضرت شیخ الہند رض کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک زمانے میں انگریز حکومت کی طرف سے ان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے گئے۔ اس زمانے میں وہ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ شریف حسین والی مکہ کے سپاہی انہیں ڈھونڈتے پھر رہے تھے کہ ایک سپاہی نے انہیں کہیں کھڑے ہوئے دیکھا۔ وہ آپ کو پہچانتا نہیں تھا۔ اس نے قریب آکر آپ رح سے پوچھا کہ تم محمود الحسن کو جانتے ہو ؟ آپ رح نے کہا جی ہاں ‘ میں جانتا ہوں۔ اس نے پوچھا وہ کہاں ہیں ؟ آپ رح نے دو قدم پیچھے ہٹ کر کہا کہ ابھی یہیں تھے۔ اس سے اس سپاہی کو مغالطہ ہوا اور وہ یہ سمجھتے ہوئے وہاں سے دوڑ پڑا کہ ابھی ادھر تھے تو میں جلدی سے یہیں کہیں سے انہیں ڈھونڈ لوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس کلام میں توریہ کا یہ انداز پایا جاتا ہے۔ جیسے آپ علیہ السلام نے بت خانے کے بتوں کو توڑا ‘ اور جس تیشے سے ان کو توڑا تھا وہ اس بڑے بت کی گردن میں لٹکا دیا۔ پوچھنے پر آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ اس بڑے بت نے ہی یہ کام دکھایا ہوگا جو صحیح سالم کھڑا ہے اور آل واردات بھی اس کے پاس ہے۔ وہاں بھی یہ انداز اختیار کرنے کا مقصد یہی تھا کہ وہ لوگ سوچنے پر مجبور اور دروں بینی پر آمادہ ہوں۔نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ ط اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ یعنی ہم نے ابراہیم علیہ السلام کے درجے بہت بلند کیے ہیں۔ اب انبیاء و رسل کے ناموں کا وہ گلدستہ آ رہا ہے جس کا ذکر پہلے کیا گیا تھا۔