Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Taha 20:89

20:89
افلا يرون الا يرجع اليهم قولا ولا يملك لهم ضرا ولا نفعا ٨٩
أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًۭا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًۭا ٨٩
أَفَلَا
يَرَوۡنَ
أَلَّا
يَرۡجِعُ
إِلَيۡهِمۡ
قَوۡلٗا
وَلَا
يَمۡلِكُ
لَهُمۡ
ضَرّٗا
وَلَا
نَفۡعٗا
٨٩
Porém, não reparavam que aquele bezerro não podia responder-lhes, nem possuía poder para prejudicá-los nembeneficiá-los?
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 20:89 a 20:91

افلا یرون الا یرجع الیھم قولاً ولا یملک لھم ضراً ولا نفعاً (02 : 98) ” کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ وہ تو زندہ بچھڑا بھی نہ تھا کہ وہ ان کی بات سن سکتا اور نہ اس قدر جواب دے سکتا تھا جس قدر ایک زندہ بچھڑا دے سکتا ہے۔ چونکہ یہ بچھڑا تو حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے ہے ، لہٰذا وہ ان کے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سادہ حقیقت ہے کہ وہ نہ ہل چلاتا ہے نہ کنوئیں سے پانی نکال سکتا ہے نہ آٹے کی چکی چلا سکتا ہے۔

ان سب امور کو ایک طرف رہنے دیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) موجود تھے۔ وہ ان کے نبی بھی تھے اور اس نبی کے نئاب تھے جو ان کا نجات دہندہ تھا۔ اس وقت انہوں نے ان کو متنبہ بھی کیا جب ان پر یہ آزمائش آئی۔ انہوں نے کہا تھا :