Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tazkir ul Quran Tafsir: Taha Ayah 73

20:73
انا امنا بربنا ليغفر لنا خطايانا وما اكرهتنا عليه من السحر والله خير وابقى ٧٣
إِنَّآ ءَامَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَـٰيَـٰنَا وَمَآ أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ ٱلسِّحْرِ ۗ وَٱللَّهُ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰٓ ٧٣
إِنَّآﲷ
ءَامَنَّاﲸ
بِرَبِّنَاﲹ
لِيَغۡفِرَﲺ
لَنَاﲻ
خَطَٰيَٰنَاﲼ
وَمَآﲽ
أَكۡرَهۡتَنَاﲾ
عَلَيۡهِﲿ
مِنَﳀ
ٱلسِّحۡرِۗﳁﳂ
وَٱللَّهُﳃ
خَيۡرٞﳄ
وَأَبۡقَىٰٓﳅ
٧٣ﳆ
Voorwaar, wij geloven in onze Heer, opdat Hij onze zonden zal vergeven en (ook) de tovenarij, waartoe jij ons gedwongen hebt. En Allah is beter (in het belonen) en blijvender (in de bestraffinjg)."
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 20:71tot 20:73

جادوگروں کے سامنے ایک طرف حضرت موسیٰ کی دلیل تھی، اور دوسری طرف فرعون کی جابرانہ شخصیت۔ یہ دلیل اور شخصیت کا مقابلہ تھا۔ جادوگروں نے شخصیت پر دلیل کو ترجیح دی۔ اگر چہ وہ جانتے تھے کہ اس ترجیح کی قیمت انھیں انتہائی مہنگی صورت میں دینی پڑے گی۔

جادوگروں کا ایمان کوئی نسلی یا رسمی ایمان نہ تھا۔ ان کا ایمان ان کے لیے دریافت کے ہم معنی تھا۔ اور جو ایمان کسی آدمی کو دریافت کے طورپر حاصل ہو وہ اتنا طاقت ور ہوتاہے کہ اس کے بعد ہر دوسری چیز اس کو ہیچ نظر آنے لگتی ہے، خواہ وہ کوئی بڑی شخصیت ہو یا کوئی بڑی دنیوی مصلحت۔