Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tazkir ul Quran Tafsir: Taha Ayah 40

20:40
اذ تمشي اختك فتقول هل ادلكم على من يكفله فرجعناك الى امك كي تقر عينها ولا تحزن وقتلت نفسا فنجيناك من الغم وفتناك فتونا فلبثت سنين في اهل مدين ثم جيت على قدر يا موسى ٤٠
إِذْ تَمْشِىٓ أُخْتُكَ فَتَقُولُ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ مَن يَكْفُلُهُۥ ۖ فَرَجَعْنَـٰكَ إِلَىٰٓ أُمِّكَ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ ۚ وَقَتَلْتَ نَفْسًۭا فَنَجَّيْنَـٰكَ مِنَ ٱلْغَمِّ وَفَتَنَّـٰكَ فُتُونًۭا ۚ فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِىٓ أَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَىٰ قَدَرٍۢ يَـٰمُوسَىٰ ٤٠
إِذۡﱠ
تَمۡشِيٓﱡ
أُخۡتُكَﱢ
فَتَقُولُﱣ
هَلۡﱤ
أَدُلُّكُمۡﱥ
عَلَىٰﱦ
مَنﱧ
يَكۡفُلُهُۥۖﱨﱩ
فَرَجَعۡنَٰكَﱪ
إِلَىٰٓﱫ
أُمِّكَﱬ
كَيۡﱭ
تَقَرَّﱮ
عَيۡنُهَاﱯ
وَلَاﱰ
تَحۡزَنَۚﱱﱲ
وَقَتَلۡتَﱳ
نَفۡسٗاﱴ
فَنَجَّيۡنَٰكَﱵ
مِنَﱶ
ٱلۡغَمِّﱷ
وَفَتَنَّٰكَﱸ
فُتُونٗاۚﱹﱺ
فَلَبِثۡتَﱻ
سِنِينَﱼ
فِيٓﱽ
أَهۡلِﱾ
مَدۡيَنَﱿ
ثُمَّﲀ
جِئۡتَﲁ
عَلَىٰﲂ
قَدَرٖﲃ
يَٰمُوسَىٰﲄ
٤٠ﲅ
Toen jouw zuster heenging en (tegen de familie van Fir'aun) zei: 'Zal ik hem naar iemand brengen, die voor hem kan zorgen?' Zo brachten Wij jou bij jouw moeder terug, zodat haar ogen verblijdden en niet treurden. En jij hebt iemand gedood; daarop hebben Wij jou uit de moeilijkheden gered en Wij hebben jou aan veel beproevingen blootgesteld. Zo verbleef jij jaren onder het volk van Madyan, toen kwam jij, zoals bepaald, O Môesa.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 20:37tot 20:40

مصر کے اصل باشندے قبطی تھےجن کا سیاسی اور مذہبی نمائندہ فرعون تھا۔ وہاں کی دوسری قوم بنی اسرائیل تھی جو حضرت یوسف کے زمانے میں باہر سے آکر یہاں آباد ہوئی تھی۔ حضرت موسیٰ جس زمانہ میں بنی اسرائیل کے ایک گھر میں پیدا ہوئے۔ اس زمانہ میں فرعون نے اسرائیل کی نسل ختم کرنے کے لیے یہ حکم دے دیا تھا کہ اسرائیل کے گھروں میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کردیے جائیں۔ حضرت موسیٰ کی ماں نے بچہ کو قتل سے بچانے کے لیے خدائی الہام کے تحت یہ کیا کہ اس کو ٹوکری میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دیا۔

یہ ٹوکری بہتے ہوئے فرعون کے محل کے پاس پہنچی۔ وہاں فرعون اور اس کی بیوی نے اس کو دیکھا تو ان کو چھوٹے بچہ پررحم آگیا۔ انھوں نے اس کو نکال کر محل کے اندر رکھ لیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کی بہن کی نشان دہی پر آپ کی ماں آپ کو دودھ پلانے کے لیے مقرر ہوئیں۔یہ خدا کا ایک کرشمہ ہے کہ جس فرعون کو موسیٰ کا سب سے بڑا دشمن بننا تھا اسی فرعون کے ذریعہ حضرت موسیٰ کی پرورش اور تربیت کرائی گئی۔

حضرت موسیٰ بڑے ہوئے تو ایک قبطی اور ایک اسرائیلی کے جھگڑے میں انھوں نے قبطی کو تنبيہہ کی۔ غیرمتوقع طورپر وہ قبطی مر گیا۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے حکم جاری ہوا کہ موسیٰ کو گرفتار کرلیاجائے۔ مگر حضرت موسیٰ خفیہ طور پر مصر سے نکل کر مدین پہنچ گئے۔ وہاں کے صحرائی ماحول میں وہ زندگی کے مزید تجربات سے آشنا ہوئے۔ قبطی کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے غیر معمولی دعائیں کیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس حادثہ کو ان کے لیے مزید تربیت اور تعلیم کا ذریعہ بنا دیا۔