Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Sad 38:29

38:29
كتاب انزلناه اليك مبارك ليدبروا اياته وليتذكر اولو الالباب ٢٩
كِتَـٰبٌ أَنزَلْنَـٰهُ إِلَيْكَ مُبَـٰرَكٌۭ لِّيَدَّبَّرُوٓا۟ ءَايَـٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ ٢٩
كِتَٰبٌ
أَنزَلۡنَٰهُ
إِلَيۡكَ
مُبَٰرَكٞ
لِّيَدَّبَّرُوٓاْ
ءَايَٰتِهِۦ
وَلِيَتَذَكَّرَ
أُوْلُواْ
ٱلۡأَلۡبَٰبِ
٢٩
(Dit is) een gezegend Boek dat Wij aan jou hebben neergezonden opdat zij Zijn Verzen zullen overpeinzen en opdat de bezitters van verstand er lering uit trekken.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 38:27tot 38:29

دنیا کی چیزوں پر غور کیجيے تو معلوم ہوتاہے کہ اس کا پورا نظام نہایت حکیمانہ بنیادوں پر قائم ہے حالانکہ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ایک الل ٹپ نظام ہو اور اس میں کوئی بات یقینی نہ ہو۔ دو امکان میں سے ایک مناسب تر امکان کا پایا جانا اس بات کا قرینہ ہے کہ اس دنیا کو پیدا کرنے والے نے اس کو ایک با مقصد منصوبہ کے تحت بنایا ہے۔ پھر جو دنیا اپنی ابتدا میں بامقصد ہو وہ اپنی انتہا میں بے مقصد کیوں کر ہوجائے گی۔

اسی طرح اس دنیا میں ہر آدمی آزاد اور خود مختار ہے۔مشاہدہ دوبارہ بتاتا ہے کہ لوگوں میں کوئی شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف کرتاہے اور اپنے اختیار سے اپنے آپ کو سچائی اور انصاف کا پابند بناتاہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ بے قید ہو کر جو چاہے بولتا ہے اور جس طرح چاہے عمل کرتاہے۔ عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی کہ جب یہاں دو قسم کے انسان ہیں تو ان کا انجام یکساں ہو کر رہ جائے۔

دنیا کی اس صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو زندگی کے متعلق قرآن کا بیان ہی زیادہ مطابق حال نظر آئے گا، نہ کہ ان لوگوں کا بیان جو زندگی کی تشریح اس کے برعکس انداز میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔