Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Yusuf 12:84

12:84
وتولى عنهم وقال يا اسفى على يوسف وابيضت عيناه من الحزن فهو كظيم ٨٤
وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌۭ ٨٤
وَتَوَلَّىٰﲭ
عَنۡهُمۡﲮ
وَقَالَﲯ
يَٰٓأَسَفَىٰﲰ
عَلَىٰﲱ
يُوسُفَﲲ
وَٱبۡيَضَّتۡﲳ
عَيۡنَاهُﲴ
مِنَﲵ
ٱلۡحُزۡنِﲶ
فَهُوَﲷ
كَظِيمٞﲸ
٨٤ﲹ
En hij (Ya'qôeb) wendde zich af van hen en zei: "Ik heb medelijden met Yôesoef," en zijn ogen werden wit van verdriet en hij beheerste zijn woede.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 12:83tot 12:87

’’تم نے بات بنالی ہے‘‘ کہہ کر حضرت یعقوب نے برادران یوسف کے دل کا کھوٹ واضح کیا۔ وہ باپ کے یہاں سے گئے تو مکمل حفاظت کا وعدہ کرکے اس کو ساتھ لے گئے۔ اور جب بن یامین کے اسباب میں سے پیالہ برآمد ہوا تو اس کی طرف سے اتنی مدافعت بھی نہ کرسکے کہ یہ کہتے کہ محض پیالہ برآمد ہونے سے وہ چور کیسے ثابت ہوگیا۔ شاید کسی اور نے رکھ دیا ہو یا کسی غلطی سے وہ اس کے اسباب کے ساتھ بندھ گیا ہو۔ اس کے برعکس، انھوںنے یہ کیا کہ یہ کہہ کر اس کے جرم کو مصریوں کی نظر میں اور پختہ کردیا کہ اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے۔

حضرت یعقوب اگرچہ دو عزیز بیٹوں کو کھونے کی وجہ سے بے حد غم زدہ تھے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خدا سے اس کی رحمت کی امید بھی لگائے ہوئے تھے۔ ان کا اب بھی یہ خیال تھا کہ یوسف کا ابتدائی زمانہ کا خواب ایک خدائی بشارت تھا اور وہ ضرور پورا ہوگا۔ اسی لیے انھوں نے بیٹوں سے کہا کہ جاؤیوسف کو تلاش کرو اور بن یامین کی رہائی کی بھي کوشش کرو۔