Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tazkir ul Quran Tafsir: Ghafir Ayah 31

40:31
مثل داب قوم نوح وعاد وثمود والذين من بعدهم وما الله يريد ظلما للعباد ٣١
مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوحٍۢ وَعَادٍۢ وَثَمُودَ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۚ وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًۭا لِّلْعِبَادِ ٣١
مِثۡلَﲵ
دَأۡبِﲶ
قَوۡمِﲷ
نُوحٖﲸ
وَعَادٖﲹ
وَثَمُودَﲺ
وَٱلَّذِينَﲻ
مِنۢﲼ
بَعۡدِهِمۡۚﲽﲾ
وَمَاﲿ
ٱللَّهُﳀ
يُرِيدُﳁ
ظُلۡمٗاﳂ
لِّلۡعِبَادِﳃ
٣١ﳄ
Gelijk het lot van (het volk van) Nôeh, en de 'Âd en de Tsamôed en degenen na hen." En Allah wenst geen onrecht voor de dienaren.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 40:30tot 40:33

فرعون نے حضرت موسیٰ کو دنیاکی سزا سے ڈرایا تھا، اس کے جواب میں رَجُل مومن نے فرعون کو آخرت کی سزا سے ڈرایا۔ حق کے داعی کا طریقہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی فکر کرتے ہیں، داعی آخرت کےلیے فکر مند ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی اصطلاحوں میں بولتے ہیں، داعی آخرت کی اصطلاحوں میں کلام کرتاہے۔ لوگ دنیا کے مسائل کو سب سے زیادہ قابل ذکر سمجھتے ہیں، داعی کے نزدیک سب سے زیادہ قابل ذکر مسئلہ وہ ہوتا ہے جس کا تعلق آخرت سے ہو۔