Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Qasas Ayah 81

28:81
فخسفنا به وبداره الارض فما كان له من فية ينصرونه من دون الله وما كان من المنتصرين ٨١
فَخَسَفْنَا بِهِۦ وَبِدَارِهِ ٱلْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُۥ مِن فِئَةٍۢ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُنتَصِرِينَ ٨١
فَخَسَفۡنَاﲈ
بِهِۦﲉ
وَبِدَارِهِﲊ
ٱلۡأَرۡضَﲋ
فَمَاﲌ
كَانَﲍ
لَهُۥﲎ
مِنﲏ
فِئَةٖﲐ
يَنصُرُونَهُۥﲑ
مِنﲒ
دُونِﲓ
ٱللَّهِﲔ
وَمَاﲕ
كَانَﲖ
مِنَﲗ
ٱلۡمُنتَصِرِينَﲘ
٨١ﲙ
Daarom deden wij hem en zijn woning in de aarde wegzinken. En voor hem was er geen groep die hem kon helpen, behalve Allah. En hij behoorde niet tot de weerbaren.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 28:81tot 28:82

بائبل کے بیان کے مطابق حضرت موسیٰ نے قارون کے برے اعمال کی وجہ سے اس کے لیے بد دعا فرمائی اور وہ اپنے ساتھیوں اور خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیاگیا۔ یہ اللہ کی طرف سے مشاہداتی سطح پر دکھایا گیا کہ خدا پرستی کو چھوڑ کر دولت پرستی اختیار کرنے کا آخری انجام کیا ہوتا ہے۔

دنیا کا رزق دراصل امتحان کا سامان ہے۔یہ ہر آدمی کو خداکے فیصلہ کے تحت کم یازیادہ دیا جاتاہے۔ آدمی کو چاہيے کہ رزق کم ملے تو صبر کرے۔ اور اگر رزق زیادہ ملے تو شکر کرے۔ یہی کسی انسان کےلیے نجات اور کامیابی کا واحد راستہ ہے۔