Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren
6:50
قل لا اقول لكم عندي خزاين الله ولا اعلم الغيب ولا اقول لكم اني ملك ان اتبع الا ما يوحى الي قل هل يستوي الاعمى والبصير افلا تتفكرون ٥٠
قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ إِنِّى مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ ٥٠
قُل
لَّآ
أَقُولُ
لَكُمۡ
عِندِي
خَزَآئِنُ
ٱللَّهِ
وَلَآ
أَعۡلَمُ
ٱلۡغَيۡبَ
وَلَآ
أَقُولُ
لَكُمۡ
إِنِّي
مَلَكٌۖ
إِنۡ
أَتَّبِعُ
إِلَّا
مَا
يُوحَىٰٓ
إِلَيَّۚ
قُلۡ
هَلۡ
يَسۡتَوِي
ٱلۡأَعۡمَىٰ
وَٱلۡبَصِيرُۚ
أَفَلَا
تَتَفَكَّرُونَ
٥٠
Zeg: "Ik zeg jullie niet dat de schatten ven Allah bij mij zijn en niet dat ik het verborgene ken, en ik zeg jullie niet dat ik een Engel ben: ik volg slechts wat aan mij geopenbaard wordt." Zeg: "Zijn de blinden en de zienden gelijk? Denken jullie dan niet na?"
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 6:50tot 6:51
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہو جاتی ہے، میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے؟ “

اور آیت میں ہے کہ «أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ» [ 13-الرعد: 19 ] ‏ ” کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو نابینا ہے؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں “۔

” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکا رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہو گا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لیے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اورثواب کے مستحق بن جائیں “۔

صفحہ نمبر2600