Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-An'am Ayah 35

6:35
وان كان كبر عليك اعراضهم فان استطعت ان تبتغي نفقا في الارض او سلما في السماء فتاتيهم باية ولو شاء الله لجمعهم على الهدى فلا تكونن من الجاهلين ٣٥
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ ٱسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِىَ نَفَقًۭا فِى ٱلْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًۭا فِى ٱلسَّمَآءِ فَتَأْتِيَهُم بِـَٔايَةٍۢ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى ٱلْهُدَىٰ ۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْجَـٰهِلِينَ ٣٥
وَإِنﳊ
كَانَﳋ
كَبُرَﳌ
عَلَيۡكَﳍ
إِعۡرَاضُهُمۡﳎ
فَإِنِﳏ
ٱسۡتَطَعۡتَﳐ
أَنﳑ
تَبۡتَغِيَﳒ
نَفَقٗاﳓ
فِيﳔ
ٱلۡأَرۡضِﳕ
أَوۡﳖ
سُلَّمٗاﳗ
فِيﳘ
ٱلسَّمَآءِﳙ
فَتَأۡتِيَهُمﳚ
بِـَٔايَةٖۚﳛﳜ
وَلَوۡﳝ
شَآءَﳞ
ٱللَّهُﳟ
لَجَمَعَهُمۡﳠ
عَلَىﳡ
ٱلۡهُدَىٰۚﳢﳣ
فَلَاﳤ
تَكُونَنَّﳥ
مِنَﳦ
ٱلۡجَٰهِلِينَﳧ
٣٥ﳨ
En als hun afkeer van jou zwaar voor jou is: als jij in staat zou zijn een grot in de aarde of een ladder naar de hemel te maken, zodat jij een Teken tot hen zou kunnen laten komen (doe het dan); en indien Allah het gewild zou hebben, zou Hij hen onder de Leiding verzamelen. Behoor daarom zeker niet tot de onwetenden.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 6:33tot 6:36

ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے محمد، خدا کی قسم ہم تم کو نہیں جھٹلاتے۔ یقیناً تم ہمارے درمیان ایک سچے آدمی ہو۔ مگر ہم اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو تم لائے ہو۔ مکہ کے لوگ جو ایمان نہیں لائے وہ آپ کو ایک اچھا انسان مانتے تھے۔ مگر کسی کے متعلق یہ ماننا کہ اس کی زبان پر حق جاری ہوا ہے اس کو بہت بڑا اعزاز دینا ہے اور اتنا بڑا اعزاز دینے کے لیے وہ تیار نہ تھے۔ آپ کو جب وہ ’’سچا‘‘ یا ’’ایمان دار‘‘ کہتے تو ان کو یہ نفسیاتی تسکین حاصل رہتی کہ آپ ہماری ہی سطح کے ایک انسان ہیں۔ مگر اس بات کا اقرار کہ آپ کی زبان پر خدا کا کلام جاری ہوا ہے آپ کو اپنے سے اونچا درجہ دینے کے ہم معنی تھا۔ اور اس قسم کا اعتراف آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔

موجودہ دنیا میں خدا اپنی براہ راست صورت میں سامنے نہیں آتا، وہ دلائل اور نشانیوں کی صورت میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے حق کے دلائل کو نہ ماننا یا اس کے حق میں ظاہر ہونے والی نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا گویا خدا کو نہ ماننا اور خدا كي طرف سے آنکھیں پھیر لینا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہوسکتا کہ خدا مجبورکن معجزات کے ساتھ سامنے آئے۔ مجبور کن معجزات کے جلو میں خدا کی دعوت پیش کی جائے تو پھر اختیار کی آزادی ختم ہوجائے گی اور امتحان کے لیے آزادانہ اختیار کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ داعی کو اس بات کا غم نہ کرنا چاہیے کہ اس کے ساتھ صرف دلائل کا وزن ہے، غیر معمولی قسم کی تسخیری قوتیں اس کے پاس موجود نہیں۔ داعی کو اس فکر میں پڑنے کے بجائے صبر کرنا چاہیے۔ دعوت حق کی جدوجہد ایک طرف داعی کے صبر کا امتحان ہوتی ہے اور دوسری طرف مخاطبین کے لیے اس بات کا امتحان کہ وہ اپنے جیسے ایک انسان میں نمائندۂ خدا ہونے کی جھلک دیکھیں۔ وہ انسان کے منھ سے نکلے ہوئے کلام میں خدائی کلام کی عظمتوں کو پالیں، وہ مادی زور سے خالی دلائل کے آگے اس طرح جھک جائیں جس طرح وہ زور آور خدا کے آگے جھکیں گے — زندہ لوگوں کے لیے ساری کائنات نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور جنھوں نے اپنے احساسات کو مردہ کرلیا ہو وہ قیامت کے زلزلہ کے سوا کسی اور چیز سے سبق نہیں لے سکتے۔