Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Fussilat 41:40

41:40
ان الذين يلحدون في اياتنا لا يخفون علينا افمن يلقى في النار خير ام من ياتي امنا يوم القيامة اعملوا ما شيتم انه بما تعملون بصير ٤٠
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِىٓ ءَايَـٰتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَآ ۗ أَفَمَن يُلْقَىٰ فِى ٱلنَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِىٓ ءَامِنًۭا يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ ٱعْمَلُوا۟ مَا شِئْتُمْ ۖ إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ٤٠
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
يُلۡحِدُونَ
فِيٓ
ءَايَٰتِنَا
لَا
يَخۡفَوۡنَ
عَلَيۡنَآۗ
أَفَمَن
يُلۡقَىٰ
فِي
ٱلنَّارِ
خَيۡرٌ
أَم
مَّن
يَأۡتِيٓ
ءَامِنٗا
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِۚ
ٱعۡمَلُواْ
مَا
شِئۡتُمۡ
إِنَّهُۥ
بِمَا
تَعۡمَلُونَ
بَصِيرٌ
٤٠
Voorwaar, degenen die Onze Verzen verdraaien zijn niet voor Ons verborgen. Is dan wie in het Vuur geworpen wordt beter, of wie veilig aankomt op de Dag der Opstanding? Doet wat jullie willen: voorwaar, Hij is Alziende over wat jullie doen.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 41:40tot 41:43
عذاب و ثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا ٭٭

«اِلْحَاد» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں۔ اور قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے «اِلْحَاد» کے معنی کفر و عناد ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کر دینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں “۔

ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے مثل کسی کا کلام نہیں اس کے آگے پیچھے سے یعنی کسی طرف سے اس سے باطل مل نہیں سکتا، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔ اس کے تمام تر احکام بہترین انجام والے ہیں، ” تجھ سے جو کچھ تیرے زمانے کے کفار کہتے ہیں یہی تجھ سے اگلے نبیوں کو ان کی کافر امتوں نے کہا تھا۔ پس جیسے ان پیغمبروں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ جو بھی تیرے رب کی طرف رجوع کرے وہ اس کے لیے بڑی بخششوں والا ہے اور جو اپنے کفر و ضد پر اڑا رہے مخالفت حق اور تکذیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اس پر وہ سخت درد ناک سزائیں کرنے والا ہے “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور معافی نہ ہوتی تو دنیا میں ایک متنفس جی نہیں سکتا تھا اور اگر اس کی پکڑ دکڑ عذاب سزا نہ ہوتی تو ہر شخص مطمئن ہو کر ٹیک لگا کر بے خوف ہو جاتا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8091