Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: An-Nisa 4:60

4:60
الم تر الى الذين يزعمون انهم امنوا بما انزل اليك وما انزل من قبلك يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت وقد امروا ان يكفروا به ويريد الشيطان ان يضلهم ضلالا بعيدا ٦٠
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓا۟ إِلَى ٱلطَّـٰغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوٓا۟ أَن يَكْفُرُوا۟ بِهِۦ وَيُرِيدُ ٱلشَّيْطَـٰنُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَـٰلًۢا بَعِيدًۭا ٦٠
أَلَمۡ
تَرَ
إِلَى
ٱلَّذِينَ
يَزۡعُمُونَ
أَنَّهُمۡ
ءَامَنُواْ
بِمَآ
أُنزِلَ
إِلَيۡكَ
وَمَآ
أُنزِلَ
مِن
قَبۡلِكَ
يُرِيدُونَ
أَن
يَتَحَاكَمُوٓاْ
إِلَى
ٱلطَّٰغُوتِ
وَقَدۡ
أُمِرُوٓاْ
أَن
يَكۡفُرُواْ
بِهِۦۖ
وَيُرِيدُ
ٱلشَّيۡطَٰنُ
أَن
يُضِلَّهُمۡ
ضَلَٰلَۢا
بَعِيدٗا
٦٠
Heb jij degenen niet gezien die dachten dat zij geloofden in wat aan jou geopenbaard is en in wat er voor jou geopenbaard is? Zij willen volgens de Thaghôet berechten, hoewel hen toch bevolen was er niet in te geloven. En het is zo dat de Satan hen ver weg wil doen afdwalen.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 4:60tot 4:61
حسن سلوک اور دوغلے لوگ ٭٭

اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دعوے کو جھٹلایا ہے جو زبانی تو اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تمام اگلی کتابوں پر اور اس قرآن پر بھی ہمارا ایمان ہے۔ لیکن جب کبھی کسی مسئلہ کی تحقیق کرنی ہو، جب کبھی کسی اختلاف کو سمیٹنا ہو، جب کبھی کسی جھگڑےکا فیصلہ کرنا ہو تو قرآن و حدیث کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ کسی اور طرف لے جاتے ہیں۔

چنانچہ یہ آیت ان دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی جن میں کچھ اختلاف تھا ایک تو یہودی تھا دوسرا انصاری تھا، یہودی تو کہتا تھا کہ چل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کرا لیں اور انصاری کہتا تھا کعب بن اشرف کے پاس چلو۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے بظاہر مسلمان کہلاتے ہیں ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے جو اسلام کو ظاہر کرتے تھے لیکن درپردہ احکام جاہلیت کی طرف جھکنا چاہتے تھے۔ اس کے سوا اور اقوال بھی ہیں، آیت اپنے حکم اور الفاظ کے اعتبار سے عام ہے ان تمام واقعات پر مشتمل ہے ہر اس شخص کی مذمت اور برائی کا اظہار کرتی ہے جو کتاب و سنت سے ہٹ کر کسی اور باطل کی طرف اپنا فیصلہ لے جائے اور یہی مراد یہاں طاغوت سے ہے (‏یعنی قرآن و حدیث کے سوا کی چیز یا شخص) صدور سے مراد تکبر سے منہ موڑ لینا۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا» [31-لقمان:21] ‏ یعنی ” جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کی فرمانبرداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے باپ دادا کی پیروی پر ہی اڑے رہیں گے۔ “ ایمان والوں کو جواب یہ نہیں ہوتا بلکہ ان کا جواب دوسری آیت میں اس طرح مذکور ہے «اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» ‏ [24-النور:51] ‏ یعنی ” ایمان والوں کو جب اللہ رسول کے فیصلے اور حکم کی طرف بلایا جائے تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ ہم نے سنا اور ہم نے تہہ دل سے قبول کیا “۔

صفحہ نمبر1786