Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-A'raf 7:13

7:13
قال فاهبط منها فما يكون لك ان تتكبر فيها فاخرج انك من الصاغرين ١٣
قَالَ فَٱهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ ١٣
قَالَ
فَٱهۡبِطۡ
مِنۡهَا
فَمَا
يَكُونُ
لَكَ
أَن
تَتَكَبَّرَ
فِيهَا
فَٱخۡرُجۡ
إِنَّكَ
مِنَ
ٱلصَّٰغِرِينَ
١٣
Hij (Allah) zei: "Daal af uit het (Paradijs), want het past jou niet dat jij je er hoogmoedig in gedraagt. vertrek daaroum. Voorwaar, jij behoort tot de vernederden."
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 7:13tot 7:15
نافرمانی کی سزا ٭٭

ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ ”میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں رہ نہیں سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔“

بعض نے کہا ہے: «فیھا» کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے، اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا۔ تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کر دیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ دھرمی کی یہی سزا ہے۔

اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں، بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی۔ اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حاکم پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔

صفحہ نمبر2865