Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Hijr 15:32

15:32
قال يا ابليس ما لك الا تكون مع الساجدين ٣٢
قَالَ يَـٰٓإِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ ٱلسَّـٰجِدِينَ ٣٢
قَالَ
يَٰٓإِبۡلِيسُ
مَا
لَكَ
أَلَّا
تَكُونَ
مَعَ
ٱلسَّٰجِدِينَ
٣٢
Hij (Allah) zei: "O Iblis, wat is er met jou dat jij niet bij de knielenden behoort?"
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 15:28tot 15:33
ابلیس لعین کا انکار ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ” آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا “۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ‏ ” صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ “ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا “۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا “۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔‏“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4312