Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren
21:37
خلق الانسان من عجل ساريكم اياتي فلا تستعجلون ٣٧
خُلِقَ ٱلْإِنسَـٰنُ مِنْ عَجَلٍۢ ۚ سَأُو۟رِيكُمْ ءَايَـٰتِى فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ ٣٧
خُلِقَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
مِنۡ
عَجَلٖۚ
سَأُوْرِيكُمۡ
ءَايَٰتِي
فَلَا
تَسۡتَعۡجِلُونِ
٣٧
De mens is haastig (van aard) geschapen. Spoedig zal ik jullie mijn Tekenen laten zien, vraagt daarom geen verhaasting (ervan).
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

آیت 37 خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ط ”یعنی انسان کی خلقت میں عجلت پسندی رکھی گئی ہے۔ عجلت پسندی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ انسان کی ذات یا شخصیت کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ مادی ‘ جسمانی یا حیوانی ہے جس کی تخلیق زمین یعنی مٹی سے ہوئی ہے۔ اس مادی وجود میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں رکھی گئی ہیں۔ سورة النساء کے یہ الفاظ اس حقیقت پر شاہد ہیں : وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا کہ بنیادی طور پر انسان کمزور اور ضعیف پیدا کیا گیا ہے۔ انسانی ذات کا دوسرا پہلو روحانی ہے۔ انسانی روح چونکہ نور سے پیدا کی گئی ہے اس لیے اس کا یہ پہلو بہت بلند اور ارفع ہے۔ اسی پہلو کے بارے میں سورة التین میں فرمایا گیا ہے : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ”ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے“۔ گویا اصل انسان تو وہ روح ہی ہے جو انسانی تخلیق کے مرحلہ اوّل وضاحت کے لیے الانعام : 94 کی تشریح ملاحظہ ہو میں اَحْسَنِ تَقْوِیْم کی کیفیت میں پیدا کی گئی۔ اس ”نور“ کو پھر اس انسانی جسم کے اندر رکھا گیا جو مٹی سے بنا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس میں بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ فطری اور جبلی طور پر عجلت پسند ہے۔سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ ”کیا عجب کہ تمہارے عذاب کے بارے میں وعیدوں کے پورا ہونے کا وقت قریب ہی آ لگا ہو۔