Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Anbiya 21:27

21:27
لا يسبقونه بالقول وهم بامره يعملون ٢٧
لَا يَسْبِقُونَهُۥ بِٱلْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِۦ يَعْمَلُونَ ٢٧
لَا
يَسۡبِقُونَهُۥ
بِٱلۡقَوۡلِ
وَهُم
بِأَمۡرِهِۦ
يَعۡمَلُونَ
٢٧
Zij nemen het wooird niet vóór Hem en zij handelen op Zijn bevel.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 21:26tot 21:29

ایک چیز کو حق اور دوسری چیز کو باطل سمجھنا آدمی سے اس کی آزادی چھین لیتا ہے۔ اس لیے انسان ہمیشہ اس کوشش میں رہا ہے کہ وہ ایسا نظریہ دریافت کرے جس سے حق وباطل کا فرق مٹ جائے۔ جس سے اس کو یہ اطمینان حاصل ہو کہ وہ دنیا میں خواہ جس طرح بھی رہے اس سے یہ پوچھ نہیں ہونے والی ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور ویسا کیوں نہیں کیا۔ غیر مذہبی لوگوں نے یہ تسکین انکارِ آخرت کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور مذہبی لوگوں نے مشرکانہ عقیدہ کے ذریعہ۔

فرشتے ایک غیبی مخلوق ہیں۔ پیغمبروں کے ذریعہ انسان کو فرشتوں کی موجودگی کی خبر دی گئی تاکہ وہ خدا کی قدرت کا احساس کرے۔ مگر اس نے فرشتوں کو خدا کی بیٹی بنا کر عجیب وغریب طور پر یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ وہ فرشتوں کے نام پر کچھ عبادتی رسوم ادا کرتا رہے، اور وہ آخرت میں اپنے باپ سے سفارش کرکے اس کی بخشش کرادیںگے۔

اس قسم کے تمام عقیدے خدا کی خدائی کی نفی ہیں۔ خدا اسی ليے خدا ہے کہ وہ ایسی تمام کمیوں سے پاک ہے۔ اگر وہ ان کمیوں میں مبتلا ہوتا تو وہ خدا نہ ہوتا۔