Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Falaq 113:1

113:1
قل اعوذ برب الفلق ١
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ ١
قُلۡ
أَعُوذُ
بِرَبِّ
ٱلۡفَلَقِ
١
Zeg: "Ik zoek bescherming bij de Heer der dageraad.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

آیت 1{ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔ } ”کہو کہ میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔“ فَلَقَ یَفْلِقُکے معنی کسی چیز کو پھاڑنے کے ہیں۔ سورة الانعام کی آیت 96 میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے حوالے سے { فَالِقُ الْاِصْبَاحِ } کے الفاظ آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رات کی تاریکی کا پردہ چاک کر کے سپیدئہ سحر نمودار کرتا ہے۔ البتہ اسی سورت کی آیت 95 میں یہ لفظ دانوں اور گٹھلیوں وغیرہ کے پھاڑنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے : { اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی }۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے زمین کے اندر دانوں یا گٹھلیوں کو پھاڑتا ہے تو پودوں یا درختوں کی پتیاں اور جڑیں نکلتی ہیں۔ چناچہ فلق سے مراد یہاں صرف صبح ہی نہیں بلکہ ہر وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عدم کا پردہ چاک کر کے وجود بخشا ہے۔ جیسے کہ اگلی آیت میں واضح کردیا گیا :