Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 72

27:72
قل عسى ان يكون ردف لكم بعض الذي تستعجلون ٧٢
قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ ٱلَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ ٧٢
قُلۡﲫ
عَسَىٰٓﲬ
أَنﲭ
يَكُونَﲮ
رَدِفَﲯ
لَكُمﲰ
بَعۡضُﲱ
ٱلَّذِيﲲ
تَسۡتَعۡجِلُونَﲳ
٧٢ﲴ
Zeg (O Moehammad): "Moge een deel van wat jullie wensen te bespoedigen bijna bij jullie zijn."
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 27:70tot 27:75

’’غم نہ کرو‘‘ کا مطلب داعیٔ حق کو غم سے روکنا نہیں ہے۔ غم تو داعی کی غذا ہے۔ یہ دراصل حق کی بے بسی کی تردید ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے ناموافق حالات کے باوجود بہر حال حق کو اور حق کا ساتھ دینے والوں کو کامیابی حاصل ہوگی۔

حق کے داعی کے مخالفین جب حق کے داعی کی مخالفت کرتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک شخص کی مخالفت کررہے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ خود خدا کی مخالفت ہے، نہ کہ محض ایک شخص کی مخالفت۔ یہ صورت حال صرف اس وقت تک باقی رہـتی ہے جب تک امتحان کی مدت ختم نہ ہوئی ہو۔ امتحان کی مقررہ مدت ختم ہوتے ہی خدا کی طاقتیں ظاہر ہوجاتی ہیں اور وہ مخالفین کا اس طرح خاتمہ کردیتی ہیں جیسے کہ کبھی ان کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ آدمی کے ليے اس سے بڑی کوئی نادانی نہیں کہ وہ آزمائش کی فرصت کو اپنے ليے سرکشی کی فرصت کے ہم معنی بنالے۔