Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Bayan ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 5

27:5
اولايك الذين لهم سوء العذاب وهم في الاخرة هم الاخسرون ٥
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَهُمْ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ وَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ هُمُ ٱلْأَخْسَرُونَ ٥
أُوْلَٰٓئِكَﱢ
ٱلَّذِينَﱣ
لَهُمۡﱤ
سُوٓءُﱥ
ٱلۡعَذَابِﱦ
وَهُمۡﱧ
فِيﱨ
ٱلۡأٓخِرَةِﱩ
هُمُﱪ
ٱلۡأَخۡسَرُونَﱫ
٥ﱬ
Zij zijn degenen voor wie er de slechte bestraffing is en in het Hiernamaals zijn zij de grootste verliezers.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 27:4tot 27:6

آیت 4 اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَہُمْ اَعْمَالَہُمْ ”ایسے لوگوں کو اپنے غلط کام بھی اچھے لگتے ہیں اور اپنا کلچر ہی مثالی نظر آتا ہے۔فَہُمْ یَعْمَہُوْنَ ”ع م ی کے مادہ میں بصارت ظاہری کے اندھے پن کا مفہوم ہے ‘ جبکہ ع م ہ کے مادہ میں بصیرت باطنی کے اندھے پن کے معنی پائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بصارت تو چاہے درست ہو مگر بصیرت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ انسان کی اس کیفیت کو سورة الحج میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ”تو اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ‘ بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔“