Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Baqarah 2:93

2:93
واذ اخذنا ميثاقكم ورفعنا فوقكم الطور خذوا ما اتيناكم بقوة واسمعوا قالوا سمعنا وعصينا واشربوا في قلوبهم العجل بكفرهم قل بيسما يامركم به ايمانكم ان كنتم مومنين ٩٣
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَـٰقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَـٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱسْمَعُوا۟ ۖ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا۟ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ۚ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُم بِهِۦٓ إِيمَـٰنُكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ٩٣
وَإِذۡ
أَخَذۡنَا
مِيثَٰقَكُمۡ
وَرَفَعۡنَا
فَوۡقَكُمُ
ٱلطُّورَ
خُذُواْ
مَآ
ءَاتَيۡنَٰكُم
بِقُوَّةٖ
وَٱسۡمَعُواْۖ
قَالُواْ
سَمِعۡنَا
وَعَصَيۡنَا
وَأُشۡرِبُواْ
فِي
قُلُوبِهِمُ
ٱلۡعِجۡلَ
بِكُفۡرِهِمۡۚ
قُلۡ
بِئۡسَمَا
يَأۡمُرُكُم
بِهِۦٓ
إِيمَٰنُكُمۡ
إِن
كُنتُم
مُّؤۡمِنِينَ
٩٣
En (gedenkt) toen Wij jullie verbond aanvaardden den Wij de (berg) Thôer boven jullie verhieven, (zeggend:) "Houdt jullie stevig vast aan wat Wij jullie gegeven hebben en luistert". Zij zeiden: "Wij hebben geluisterd, maar wij gehoorzamen niet." En hun harten waren doordrenkt met (liefde voor) het kalf vanwege hun ongeloof. Zeg (O Moehammad): "Slecht is het wartoe jullie (vervalste) geloof jullie oproept, als jullie gelovigen zijn (in de Taurât geloven)."
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
صدائے باز گشت ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کی خطائیں مخالفتیں سرکشی اور حق سے روگردانی بیان فرما رہا ہے کہ طور پہاڑ جب سروں پر دیکھا تو اقرار کر لیا جب وہ ہٹ گیا تو پھر منکر ہو گئے۔ اس کی تفسیر بیان ہو چکی ہے بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں رچ گئی۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا بہرا بنا دیتی ہے۔ [سنن ابوداود:5130، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ موسیٰ علیہ السلام نے اس بچھڑے کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جلا کر اس کی راکھ کو ہوا میں اڑا کر دریا میں ڈال دیا تھا جس پانی کو بنی اسرائیل نے پی لیا اور اس کا اثر ان پر ظاہر ہوا گو بچھڑا نیست و نابود کر دیا گیا لیکن ان کے دلوں کا تعلق اب بھی اس معبود باطل سے لگا رہا دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم ایمان کا دعویٰ کس طرح کرتے ہو؟ اپنے ایمان پر نظر نہیں ڈالتے؟ باربار کی عہد شکنیاں کئی بار کے کفر بھول گئے؟ موسیٰ علیہ السلام

کے سامنے تم نے کفر کیا ان کے بعد کے پیغمبروں کے ساتھ تم نے سرکشی کی یہاں تک کہ افضل الانبیاء ختم المرسلین محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو بھی نہ مانا جو سب سے بڑا کفر ہے۔

صفحہ نمبر372