Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Munafiqun 63:5

63:5
واذا قيل لهم تعالوا يستغفر لكم رسول الله لووا رءوسهم ورايتهم يصدون وهم مستكبرون ٥
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوْا۟ رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ ٥
وَإِذَا
قِيلَ
لَهُمۡ
تَعَالَوۡاْ
يَسۡتَغۡفِرۡ
لَكُمۡ
رَسُولُ
ٱللَّهِ
لَوَّوۡاْ
رُءُوسَهُمۡ
وَرَأَيۡتَهُمۡ
يَصُدُّونَ
وَهُم
مُّسۡتَكۡبِرُونَ
٥
En als tot hen gezegd wordt: "Komt, dan zal de Boodschapper van Allah vergeving voor jullie vragen," dan buigen zij hun hoofden en zie jij hen (de verkondiging) tegenhouden, terwijl zij hoogmoedig zijn.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

آیت 5 { وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَــکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ } ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو اپنی غلطی مان لو تاکہ اللہ کے رسول ﷺ تمہارے لیے استغفار کریں“ ظاہر ہے ان کے دلوں میں تو نبی اکرم ﷺ کے خلاف بغض اور عناد پیدا ہوچکا تھا تو ان حالات میں وہ کیسے آتے اور کیونکر اپنی غلطی تسلیم کرتے ؟ { لَوَّوْا رُئُ وْسَہُمْ } ”تو وہ اپنے سروں کو مٹکاتے ہیں“ کہ ہاں ہاں ! ٹھیک ہے ہم آئیں گے ‘ ضرور آئیں گے۔ { وَرَاَیْتَہُمْ یَصُدُّوْنَ وَہُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ۔ } ”اور آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ رک جاتے ہیں تکبر کرتے ہوئے۔“ ان کے دلوں میں چونکہ تکبر ہے ‘ اس لیے وہ آپ ﷺ کے پاس آکر معافی مانگنے کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں کہ دیکھیں جی آخر ہماری بھی کوئی عزت ہے ‘ اب کون روز روز وہاں جا کر مجرموں کی طرح اقبالِ جرم کرے اور ڈانٹ سنے !