Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Munafiqun Ayah 1

63:1
اذا جاءك المنافقون قالوا نشهد انك لرسول الله والله يعلم انك لرسوله والله يشهد ان المنافقين لكاذبون ١
إِذَا جَآءَكَ ٱلْمُنَـٰفِقُونَ قَالُوا۟ نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ لَكَـٰذِبُونَ ١
إِذَاﲀ
جَآءَكَﲁ
ٱلۡمُنَٰفِقُونَﲂ
قَالُواْﲃ
نَشۡهَدُﲄ
إِنَّكَﲅ
لَرَسُولُﲆ
ٱللَّهِۗﲇﲈ
وَٱللَّهُﲉ
يَعۡلَمُﲊ
إِنَّكَﲋ
لَرَسُولُهُۥﲌ
وَٱللَّهُﲍ
يَشۡهَدُﲎ
إِنَّﲏ
ٱلۡمُنَٰفِقِينَﲐ
لَكَٰذِبُونَﲑ
١ﲒ
Wanneer de huichelaars tot jou komen, dan zeggen zij: "Wij getuigen dat jij zeker de Boodschapper van Allah bent." En Allah weet dat jij zeker Zijn Boodschapper bent en Allah getuigt dat de huichelaars zeker leugenaars zijn.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 62:9tot 63:3

یہ کسی آدمی کے نفاق کی علامت ہے کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرے۔ اور قسم کھا کر اپنی بات کا یقین دلائے۔ مخلص آدمی اللہ کے خوف سے دبا ہوا ہوتا ہے۔ وہ زبان سے زیادہ دل سے بولتا ہے۔ منافق آدمی صرف انسان کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی خدا کو سنانے کا۔

جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ عہد کرتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے عملی مواقع آتے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس عہد کے مطابق عمل کرے۔ اب جو شخص ایسے مواقع پر اپنے دل کی آواز کو سن کر عہد کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس نے اپنے عہد ایمان کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، جس کا یہ حال ہو کہ اس کے دل نے آوازدی مگر اس نے دل کی آواز کو نظر انداز کرکے عہد کے خلاف عمل کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دھیرے دھیرے اپنے عہد ایمان کے معاملہ میں بے حس ہوجائے گا— یہی مطلب ہے دل پر مہر کرنےكا۔