Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren
26:183
ولا تبخسوا الناس اشياءهم ولا تعثوا في الارض مفسدين ١٨٣
وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ١٨٣
وَلَا
تَبۡخَسُواْ
ٱلنَّاسَ
أَشۡيَآءَهُمۡ
وَلَا
تَعۡثَوۡاْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
مُفۡسِدِينَ
١٨٣
En benadeelt niet de mensen in hun zaken en verricht geen kwaad op aarde, als verderfzaaiers.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 26:181tot 26:184
ڈنڈی مار قوم ٭٭

حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”جب کسی کو کوئی شے ناپ کر دو تو پورا پیمانہ بھر کر دو اس کے حق سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اس کی چیز کم نہ دو۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کر کے ان سے مال نہ لوٹو۔ اس اللہ کے عذابوں کا خوف رکھو جس نے تمہیں اور سب اگلوں کو پیدا کیا ہے۔ جو تمہارے اور تمہارے بڑوں کا رب ہے۔‏“

یہی لفظ آیت «وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًا اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ» [36-يس:62] ‏ میں بھی اسی معنی میں ہے۔

صفحہ نمبر6317