Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: An-Nahl 16:28

16:28
الذين تتوفاهم الملايكة ظالمي انفسهم فالقوا السلم ما كنا نعمل من سوء بلى ان الله عليم بما كنتم تعملون ٢٨
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ ظَالِمِىٓ أَنفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا۟ ٱلسَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوٓءٍۭ ۚ بَلَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٢٨
ٱلَّذِينَ
تَتَوَفَّىٰهُمُ
ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ
ظَالِمِيٓ
أَنفُسِهِمۡۖ
فَأَلۡقَوُاْ
ٱلسَّلَمَ
مَا
كُنَّا
نَعۡمَلُ
مِن
سُوٓءِۭۚ
بَلَىٰٓۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَلِيمُۢ
بِمَا
كُنتُمۡ
تَعۡمَلُونَ
٢٨
(Zij zijn) degenen die door de Engelen weggenomen werden terwijl zij onrecht tegen zichzelf begingen. Dan zullen zij zich overgeven (en zeggen:) "Wij plachten geen kwaad te bedrijven. (De Engelen zullen antwoorden:) "Nee, voorwaar, Allah weet het beste wat jullie plachten te doen."
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 16:28tot 16:29
مشرکین کی جان کنی کا عالم ٭٭

مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” جب فرشتے ان کی جان لینے کے لیے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بے گناہی بیان کرتے ہیں “۔

«وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:23] ‏ ” قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے “۔ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ» [58-المجادلہ:18] ‏ ” جس طرح دنیا میں اپنی بے گناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو، بد اعمالیاں جی کھول کر کہ چکے ہو، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آ جائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے۔ اب اپنے کرتوتوں کا خمیا زہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو “۔

مقام برا، مکان برا، ذلت اور رسوائی والا، اللہ کی آیتوں سے تکبر کرنے کا اور اس کے رسولوں کی اتباع سے جی چرانے کا یہی بدلہ ہے۔ مرتے ہی ان کی روحیں جہنم رسید ہو جائیں اور جسموں پر قبروں میں جہنم کی گرمی اور اس کی لپک آنے لگی۔ «لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا» [35-فاطر:36] ‏ ” قیامت کے دن روحیں جسموں سے مل کر نار جہنم میں گئیں اب نہ موت نہ تخفیف “۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا» [40-غافر:46] ‏ ” یہ دوزخ کی آگ کے سامنے ہر صبح شام لائے جاتے ہیں۔ قیامت کے قائم ہوتے ہی اے آل فرعون تم سخت تر عذاب میں چلے جاؤ “۔

صفحہ نمبر4434