Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tazkir ul Quran Tafsir: At-Tur Ayah 45

52:45
فذرهم حتى يلاقوا يومهم الذي فيه يصعقون ٤٥
فَذَرْهُمْ حَتَّىٰ يُلَـٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى فِيهِ يُصْعَقُونَ ٤٥
فَذَرۡهُمۡﲱ
حَتَّىٰﲲ
يُلَٰقُواْﲳ
يَوۡمَهُمُﲴ
ٱلَّذِيﲵ
فِيهِﲶ
يُصۡعَقُونَﲷ
٤٥ﲸ
Laat hen maar, totdat zij hun Dag ontmoeten waarop zij door de bliksemslag getroffen zullen worden.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 52:44tot 52:47

قدیم مکہ کے لوگوں کا یہ حال کیوں تھا کہ اگر وہ آسمان سے کوئی عذاب کا ٹکڑا گرتے ہوئے دیکھیں تو کہہ دیں کہ یہ بادل ہے۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ خدا کو یا خدائی طاقتوں کو مانتے نہ تھے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہیں پیغمبر کے پیغمبر ہونے میں شک تھا۔ انہیں یقین نہ تھا کہ ان کے سامنے بظاہر انہیں جیسا جو ایک شخص ہے اس کا انکار کرنا ایسا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے ہلاکت کا پہاڑ گر پڑے گا۔

پیغمبر اسلام کی شخصیت اپنے زمانہ میں لوگوں کے لیے ایک نزاعی شخصیت تھی۔ وہ اس طرح ایک ثابت شدہ شخصیت نہ تھی،جس طرح آج وہ لوگوں کو نظر آتی ہے۔ مگر اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہی ہے کہ وہ شبہات کے پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ بظاہر ایک نزاعی شخصیت کو ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں دریافت کرے۔