Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Ahqaf 46:32

46:32
ومن لا يجب داعي الله فليس بمعجز في الارض وليس له من دونه اولياء اولايك في ضلال مبين ٣٢
وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِىَ ٱللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُۥ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءُ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍ ٣٢
وَمَن
لَّا
يُجِبۡ
دَاعِيَ
ٱللَّهِ
فَلَيۡسَ
بِمُعۡجِزٖ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
وَلَيۡسَ
لَهُۥ
مِن
دُونِهِۦٓ
أَوۡلِيَآءُۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
فِي
ضَلَٰلٖ
مُّبِينٍ
٣٢
En wie geen gehoor geeft aan de oproeper van Allah, die zal niet kunnen ontvluchten op de aarde en voor hem is er naast Hem geen beschermer. Zij zijn degenen die in duidelijke dwaling verkeren.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

ومن لا یحب داعی اللہ ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (46 : 32) “ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زج کر دے اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی اور سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچا لیں۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ”۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان جنوں کے ڈراوے کا یہ ایک قدرتی حصہ ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دیا کیونکہ انہوں نے ان کو دعوت ایمان اور قبولیت حق دی۔ لہٰذا ڈراوے کا بعد قوی احتمال اس کا ہے کہ وہ اپنی قوم کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا تو انجام کیا ہوگا۔ اور جو قبول نہ کرے گا وہ اللہ کو عاجز نہ کرسکے گا کہ اللہ اس پر سزا وجزاء کا نظام نافذ کرے ۔ اور اسے عذاب الیم دے۔ اور پھر قیامت میں ایسا شخص کوئی دوست و یار ایسا نہ پائے گا جو اس کی مدد کرسکے۔ اور یہ کہ نہ ماننے والے گمراہی کے راستے میں پھر بہت دور تک چلے جائیں گے۔

اسی طرح کی آیت میں بھی زیادہ احتمال یہ نظر آتا ہے کہ یہ بھی کلام جن ہے۔ یہ ان لوگوں پر تعجب ہے جو اللہ کی اس دعوت کو قبول نہیں کرتے۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ قیامت سے بچ جائیں گے اور یہ کہ نہ قیامت ہے اور نہ جزاو سزا ہے۔