Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren
2:33
قال يا ادم انبيهم باسمايهم فلما انباهم باسمايهم قال الم اقل لكم اني اعلم غيب السماوات والارض واعلم ما تبدون وما كنتم تكتمون ٣٣
قَالَ يَـٰٓـَٔادَمُ أَنۢبِئْهُم بِأَسْمَآئِهِمْ ۖ فَلَمَّآ أَنۢبَأَهُم بِأَسْمَآئِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ غَيْبَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ٣٣
قَالَ
يَٰٓـَٔادَمُ
أَنۢبِئۡهُم
بِأَسۡمَآئِهِمۡۖ
فَلَمَّآ
أَنۢبَأَهُم
بِأَسۡمَآئِهِمۡ
قَالَ
أَلَمۡ
أَقُل
لَّكُمۡ
إِنِّيٓ
أَعۡلَمُ
غَيۡبَ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَأَعۡلَمُ
مَا
تُبۡدُونَ
وَمَا
كُنتُمۡ
تَكۡتُمُونَ
٣٣
Hij zei: "O Adam, noem hun de namen ervan." En toen hij hun de namen ervan had genoemd, zei Hij: "Zei Ik jullie niet, dat Ik het onwaarneembare van de hemelen en de aarde ken, en weet wat jullie openlijk doen en wat jullie plachten te verbergen?"
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 2:31tot 2:33

دیکھئے ! اب ہم چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی ایک جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کا منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں ۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان .... کے اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے ۔ اب دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے ۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے کہ درخت سامنے ہو۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں جو کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشرکا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ان ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی۔

رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ رازنہ بتایا تھا۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب یہ چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بسہولت سمجھا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثنابیان کی اور اپنے عجز ودرماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ آسمانوں اور زمینوں کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ “

دیکھئے ! اب چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی کسی جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کو منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہمیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی ہے اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو انسان اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان۔۔۔۔۔ کہ اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ ایک دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے۔ اگر کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے درخت سامنے ہو ۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشر کا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے ۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی ۔

رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ راز نہ بتایا تھا ۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بہ سہولت سمجھایا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور اپنے عجز اور درماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی طرف راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے میں جانتا ہوں۔ “

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

Blijf verbonden met de Koran ❤️

Korte, betekenisvolle herinneringen om tot rust te komen, te reflecteren en verbonden te blijven met de Koran.

Lees, luister, zoek en reflecteer over de Koran

Quran.com is een vertrouwd platform dat wereldwijd door miljoenen mensen wordt gebruikt om de Koran in meerdere talen te lezen, te doorzoeken, te beluisteren en erover na te denken. Het biedt vertalingen, tafseer, recitaties, woord-voor-woordvertalingen en tools voor een diepere studie, waardoor de Koran voor iedereen toegankelijk is.

Als Sadaqah Jariyah zet Quran.com zich in om mensen te helpen een diepe verbinding met de Koran te maken. Ondersteund door Quran.Foundation , een non-profitorganisatie. Quran.com blijft groeien als een gratis en waardevolle bron voor iedereen, Alhamdulillah.

Navigeren
Home
Koran Radio
reciteurs
Over ons
Ontwikkelaars
Product updates
Feedback
Hulp
Doneren
Onze projecten
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profitprojecten die eigendom zijn van, beheerd worden door of gesponsord worden door Quran.Foundation.
Populaire links

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

SitemapPrivacyAlgemene voorwaarden
© 2026 Quran.com. Alle rechten voorbehouden
Bijdragen