Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: An-Naml 27:7

27:7
اذ قال موسى لاهله اني انست نارا ساتيكم منها بخبر او اتيكم بشهاب قبس لعلكم تصطلون ٧
إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهْلِهِۦٓ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًۭا سَـَٔاتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ ءَاتِيكُم بِشِهَابٍۢ قَبَسٍۢ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ٧
إِذۡ
قَالَ
مُوسَىٰ
لِأَهۡلِهِۦٓ
إِنِّيٓ
ءَانَسۡتُ
نَارٗا
سَـَٔاتِيكُم
مِّنۡهَا
بِخَبَرٍ
أَوۡ
ءَاتِيكُم
بِشِهَابٖ
قَبَسٖ
لَّعَلَّكُمۡ
تَصۡطَلُونَ
٧
(Gedenk) toen Môesa tot zijn familie zei: "Ik heb een vuur gezien. Ik zal jullie er snel over berichten, of ik breng jullie er een fakkel van, zodat jullie je kunnen verwarmen."
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

سورة طہ میں بھی اس قصے کی یہ کڑی لائی گی تھی ۔ جب آپ مدین سے مصر کی طرف لوٹ رہے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی بیوی ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دختر بھی رفیق تھیں۔ ایک ادھیری سیاہ اور سردرات میں آپ سے راستہ گم ہوگیا تھا۔ حضرت کے الفاظ ” میں تو ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے آتا ہوں یا کوئی انکار اچن لاتا ہوں تاکہ تم گرم ہو سکو۔ “ اس وقت حضرت موسٰ کوہ طور کے ایک طرف تھے۔ اور اس زمانے میں یہ رواج تھا کہ بلند ٹیلوں پر ات کے وقت آ گ چلائی جاتی تھی۔ تاکہ اگر کوئی مسافر بھٹک جائے تو اس کی راہنمائی ہو۔ ایسی صورت میں جب کوئی مسافر آتا تو اسے مہمان نوازی بھی ملتی اور وہ سردی میں اپنے آپ کو گرم بھی کرتا اور صحراء میں راستے کی راہنمائی بھی ہوتی۔

انی انست نارا (82 : 8) ” مجھے ایک آگ سی نظر آنی ہے “ دور سے انہوں نے آگ کو دیکھا تو ان کو ایک گونہ اطمینان حاصل ہوگیا اور یہ امید پیدا ہوگئی کہ اس آگ کے پاس جا کر انہیں کچھ نہ کچھ راہنمائی مل جائے گی یا وہ کوئی انگارا لے آئیں گے جس سے وہ آگ جلا کر اس صحراء میں اپنے آپ کو گرم کرسکیں گے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کی طرف آگے بڑھے جسے انہوں نے دیکھا تھا تاکہ وہ وہاں سے کوئی خبر لائیں۔ اچانک یہاں انہیں ایک نہایت ہی معزز اور شاہانہ آواز آتی ہے۔