Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Isra 17:4

17:4
وقضينا الى بني اسراييل في الكتاب لتفسدن في الارض مرتين ولتعلن علوا كبيرا ٤
وَقَضَيْنَآ إِلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ فِى ٱلْكِتَـٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّۭا كَبِيرًۭا ٤
وَقَضَيۡنَآ
إِلَىٰ
بَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
فِي
ٱلۡكِتَٰبِ
لَتُفۡسِدُنَّ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
مَرَّتَيۡنِ
وَلَتَعۡلُنَّ
عُلُوّٗا
كَبِيرٗا
٤
En Wij hebben de Kinderen van Israel op de hoogte gebracht in de Schrift: "Jullie zullen zeker twee maal verderf zaaien op aarde en jullie zullen je zeker hoogmoedig gedragen, met grote hoogmoed."
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتب لتفسدون فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیرا (71 : 4) ” پھر ہم اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر بھی متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھائو گے “۔ یہ تنبیہ ان کو دراصل اس بات کی پیشگی اطلاع تھی کہ تمہارے ساتھ یہ یہ ہونے والا ہے۔ کیونکہ اللہ ان کے ہونے والے انجام سے پیشگی باخبر تھا۔ یہ اطلاع محض پیشگی علم کی وجہ سے تھی۔ اس میں ان کے لئے جبر کا کوئی پہلو نہ تھا۔ یا یہ کہ ان کے اندر جو فساد بعد میں پیدا ہوا ، وہ محض اس پیشگی اطلاع کی وجہ سے پیدا ہوا ، کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کسی کو فساد پر مجبور کرے۔

قل ان اللہ لا یا مر بالفحشاء ” کہہ دو ، اللہ فحاشی پھیلانے کا حکم نہیں دیتا “۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ وہ کیا کرنے والے تھے۔ اللہ کے علم میں جو بات ہوتی ہے ، اگرچہ بشر کو اس کا علم نہیں ہوتا اور پردہ تب اٹھتا ہے جو بشر اس کام کو کر بیٹھتا ہے۔

اللہ کا فیصلہ یہ تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب میں بتا بھی دیا تھا کہ بنی اسرائیل اپنی تاریخ میں دو مرتبہ فساد برپا کریں گے۔ اور اس طرح وہ زمین میں سرکشی اختیار کرلیں گے۔ بیت المقدس پر ان کا غلبہ ہوگا۔ لیکن اپنے اس غلبے کو دوہ ذریعہ فساد بتائیں گے۔ جن لوگوں پر ان کو برتری حاصل ہوگی ان کی جان اور آبرو کے نزدیک مباح ہوجائے گی اور یہ لوگوں کو تباہ کردیں گے۔