Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Hud 11:67

11:67
واخذ الذين ظلموا الصيحة فاصبحوا في ديارهم جاثمين ٦٧
وَأَخَذَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَـٰرِهِمْ جَـٰثِمِينَ ٦٧
وَأَخَذَ
ٱلَّذِينَ
ظَلَمُواْ
ٱلصَّيۡحَةُ
فَأَصۡبَحُواْ
فِي
دِيَٰرِهِمۡ
جَٰثِمِينَ
٦٧
En de bliksemalag greep degenen die onrecht hadden gepleegd, zodat zij doden in hun huizen werden.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 11:66tot 11:67

جب اللہ کے امر کا وقت قریب ہوگیا اور امر یہ تھا کہ یا تو یہ لوگ ڈر جائیں اور ایمان لے آئیں ورنہ پھر انہیں نیست و نابود کردیا جائے تو اس وقت ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے ساتھیوں کو اپنی رحمت کی وجہ سے نجات دی ، یہ نجات صرف ان کے لیے تھی اور ان کے ساتھ مخصوص تھی۔ یعنی ان کو موت سے بھی نجات دی اور اس دن کی شرمندگی اور ذلت سے بھی نجات دی کیونکہ ان کو زندگی سے معمول کے مطابق محروم نہیں کیا گیا بلکہ بڑی ذلت کے ساتھ ان سے حیات کو چھینا گیا۔ اور جب ایک سخت آواز نے ان کو آ لیا تو یہ سب کے سب مر گئے۔ اور جو جہاں تھا ، وہیں گر گیا اور یہ ان کے لیے ذلت آمیز موت تھی۔

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (11 : 66) “ بیشک تیرا رب ہی دراصل طاقتور اور بالادست ہے۔ ” وہ نافرمانوں کو خوب پکڑتا ہے اور یہ کام اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے دوستوں کی خوب رعایت بھی کرتا ہے اور ان پر فضل بھی کرتا ہے۔

اب یہاں قرآن مجید اشارہ بتاتا ہے کہ اس عذاب کے نتیجے میں ان کی حالت کیا ہوگئی ۔ تعجب انگیز اور عبرت آموز طریقے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ کس قدر عجلت کے ساتھ نیست ونابود کردیئے گئے۔