登入
登入
登入
选择语言
47:3
ذالك بان الذين كفروا اتبعوا الباطل وان الذين امنوا اتبعوا الحق من ربهم كذالك يضرب الله للناس امثالهم ٣
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱتَّبَعُوا۟ ٱلْبَـٰطِلَ وَأَنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّبَعُوا۟ ٱلْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَـٰلَهُمْ ٣
ذَٰلِكَ
بِأَنَّ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
ٱتَّبَعُواْ
ٱلۡبَٰطِلَ
وَأَنَّ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
ٱتَّبَعُواْ
ٱلۡحَقَّ
مِن
رَّبِّهِمۡۚ
كَذَٰلِكَ
يَضۡرِبُ
ٱللَّهُ
لِلنَّاسِ
أَمۡثَٰلَهُمۡ
٣
那是由于不信道的人们遵守虚伪,而信道的人们遵守从他们的主降示的真理。真主如此为众人设许多譬喻。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
47:1至47:3节的经注

قدیم عرب میں جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا اور آپ کی مخالفت کی ان کے اعمال ضائع ہوگئے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ انہوں نے چوں کہ شعوری سطح پر دین داری کا ثبوت نہیں دیا اس لیے ان کے وہ اعمال بھی بے قیمت قرار پائے جو وہ روایتی دینداری کی سطح پر انجام دے رہے تھے۔

قدیم عرب کے لوگ اپنے آپ کو ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی امت سمجھتے تھے۔ انہیں خانہ کعبہ کا منتظم ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ ان کے یہاں کسی نہ کسی شکل میں نماز، روزہ، حج کا رواج بھی موجود تھا۔ حاجیوں کی خدمت، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک، مہمانوں کی تواضع کا بھی ان کے یہاں چرچا تھا۔ یہ سب کام اگرچہ وہ بظاہر کر رہے تھے مگر وہ ان کی شعوری دینداری کا حصہ نہ تھے۔ وہ محض روایتی طور پر ان کی زندگی کا جزء بنے ہوئے تھے۔ ان اعمال کو وہ اس لیے کر رہے تھے کہ وہ صدیوں سے ان کے درمیان رائج چلے آ رہے تھے۔

مگر وقت کے پیغمبر کو پہچاننے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے شعور کو متحرک کریں۔ وہ ذاتی معرفت کی سطح پر اسے پائیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت قدیم روایات کا زور شامل نہ تھا اس لیے آپ کو وہی شخص پہچان سکتا تھا جو ذاتی شعور کی سطح پر حقیقت کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جب انہوں نے وقت کے پیغمبر کا انکار کیا تو یہ ثابت ہوگیا کہ ان کی دینداری محض روایت کے تحت ہے، نہ کہ شعور کے تحت۔ اور اللہ کو شعوری دین داری مطلوب ہے، نہ کہ محض روایتی دینداری۔

اس کے برعکس، جو لوگ وقت کے پیغمبر پر ایمان لائے ۔ انہوں نے یہ ثبوت دیا کہ وہ شعور کی سطح پر دین دار بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ خدا کے یہاں قابل قبول اور قابل انعام قرار پائے۔ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ ماضی کے زور پر ماننے والے لوگ حال کی معرفت کے امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کی نظر سے دیکھنے والے اپنی نظر سے دیکھنے میں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔