Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
12:64
قال هل امنكم عليه الا كما امنتكم على اخيه من قبل فالله خير حافظا وهو ارحم الراحمين ٦٤
قَالَ هَلْ ءَامَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُ ۖ فَٱللَّهُ خَيْرٌ حَـٰفِظًۭا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٦٤
قَالَ
هَلۡ
ءَامَنُكُمۡ
عَلَيۡهِ
إِلَّا
كَمَآ
أَمِنتُكُمۡ
عَلَىٰٓ
أَخِيهِ
مِن
قَبۡلُ
فَٱللَّهُ
خَيۡرٌ
حَٰفِظٗاۖ
وَهُوَ
أَرۡحَمُ
ٱلرَّٰحِمِينَ
٦٤
Bapa mereka berkata: "(Jika aku lepaskan dia pergi bersama-sama kamu), aku tidak menaruh kepercayaan kepada kamu menjaganya melainkan seperti kepercayaanku kepada kamu menjaga saudaranya dahulu (yang telah kamu hampakan. Oleh itu aku hanya menaruh kepercayaan kepada Allah), kerana Allah jualah Penjaga yang sebaik-baiknya, dan Dia lah jua Yang Maha Mengasihani dari sesiapa sahaja yang menaruh belas kasihan".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 12:62 hingga 12:64

حضرت یوسف نے غالباً بھائیوں سے قیمت لینا مروّت کے خلاف سمجھا یا اس خیال سے کہ مال کی کمی ان کے دوبارہ یہاں آنے ميں رکاوٹ نہ بن جائے، اپنے آدمیوں کو ہدایت کی کہ جو رقم انھوں نے غلہ کی قیمت کے طورپر اداکی ہے، وہ خاموشی سے ان کے سامان میں ڈال دیا جائے تاکہ جب وہ گھر پر جاکر اپنا سامان کھولیں تو اس کو پالیں اور اپنے بھائی (بن یامین) کو لے کر دوبارہ یہاں آئیں۔

حضرت یعقوب نے ایک طرف بن یامین کے سلسلہ میں اپنے بیٹوں پر بے اعتمادی کا اظہار کیا دوسری طرف یہ بھی فرمایا کہ تم کو یا کسی اور کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔ ہونا وہی ہے جو خدا چاہے۔مگر یہ ہونا انسان کے کے ہاتھوں کرایا جاتاہے تاکہ جو بُرا ہے وہ برا کرکے اپنی حقیقت کو ثابت کرے۔ اور جو اچھا ہے وہ اچھا کرکے اپنے آپ کو اس فہرست میں لکھوائے جس کا وہ مستحق ہے۔