Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yusuf 12:63

12:63
فلما رجعوا الى ابيهم قالوا يا ابانا منع منا الكيل فارسل معنا اخانا نكتل وانا له لحافظون ٦٣
فَلَمَّا رَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ ٦٣
فَلَمَّاﳈ
رَجَعُوٓاْﳉ
إِلَىٰٓﳊ
أَبِيهِمۡﳋ
قَالُواْﳌ
يَٰٓأَبَانَاﳍ
مُنِعَﳎ
مِنَّاﳏ
ٱلۡكَيۡلُﳐ
فَأَرۡسِلۡﳑ
مَعَنَآﳒ
أَخَانَاﳓ
نَكۡتَلۡﳔ
وَإِنَّاﳕ
لَهُۥﳖ
لَحَٰفِظُونَﳗ
٦٣ﳘ
Maka ketika mereka kembali kepada bapa mereka, berkatalah mereka: "Wahai ayah kami! Kami (tetap diberi amaran bahawa kami) tidak akan mendapat lagi bekalan makanan (kiranya Bunyamin tidak pergi bersama). Oleh itu, hantarkanlah dia bersama-sama kami, supaya kami dapat lagi bekalan makanan; dan sesungguhnya kami akan menjaganya dengan sebaik-baiknya".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 12:62 hingga 12:64

حضرت یوسف نے غالباً بھائیوں سے قیمت لینا مروّت کے خلاف سمجھا یا اس خیال سے کہ مال کی کمی ان کے دوبارہ یہاں آنے ميں رکاوٹ نہ بن جائے، اپنے آدمیوں کو ہدایت کی کہ جو رقم انھوں نے غلہ کی قیمت کے طورپر اداکی ہے، وہ خاموشی سے ان کے سامان میں ڈال دیا جائے تاکہ جب وہ گھر پر جاکر اپنا سامان کھولیں تو اس کو پالیں اور اپنے بھائی (بن یامین) کو لے کر دوبارہ یہاں آئیں۔

حضرت یعقوب نے ایک طرف بن یامین کے سلسلہ میں اپنے بیٹوں پر بے اعتمادی کا اظہار کیا دوسری طرف یہ بھی فرمایا کہ تم کو یا کسی اور کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔ ہونا وہی ہے جو خدا چاہے۔مگر یہ ہونا انسان کے کے ہاتھوں کرایا جاتاہے تاکہ جو بُرا ہے وہ برا کرکے اپنی حقیقت کو ثابت کرے۔ اور جو اچھا ہے وہ اچھا کرکے اپنے آپ کو اس فہرست میں لکھوائے جس کا وہ مستحق ہے۔