Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yusuf 12:51

12:51
قال ما خطبكن اذ راودتن يوسف عن نفسه قلن حاش لله ما علمنا عليه من سوء قالت امرات العزيز الان حصحص الحق انا راودته عن نفسه وانه لمن الصادقين ٥١
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ قُلْنَ حَـٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍۢ ۚ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٔـٰنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ٥١
قَالَ
مَا
خَطۡبُكُنَّ
إِذۡ
رَٰوَدتُّنَّ
يُوسُفَ
عَن
نَّفۡسِهِۦۚ
قُلۡنَ
حَٰشَ
لِلَّهِ
مَا
عَلِمۡنَا
عَلَيۡهِ
مِن
سُوٓءٖۚ
قَالَتِ
ٱمۡرَأَتُ
ٱلۡعَزِيزِ
ٱلۡـَٰٔنَ
حَصۡحَصَ
ٱلۡحَقُّ
أَنَا۠
رَٰوَدتُّهُۥ
عَن
نَّفۡسِهِۦ
وَإِنَّهُۥ
لَمِنَ
ٱلصَّٰدِقِينَ
٥١
Setelah perempuan-perempuan itu dipanggil), raja bertanya kepada mereka: "Apahal kamu, semasa kamu memujuk Yusuf mengenai dirinya?" Mereka menjawab: JauhNya Allah dari segala cacat cela, kami tidak mengetahui sesuatu kejahatan terhadap Yusuf". Isteri Al-Aziz pun berkata: "Sekarang ternyatalah kebenaran (yang selama ini tersembunyi), akulah yang memujuk Yusuf berkehendakkan dirinya (tetapi ia telah menolak); dan sesungguhnya adalah ia dari orang-orang yang benar.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

اب یہ فرستادہ واپس ہوتا ہے ، رپورٹ دیتا ہے ، لیکن قرآن کریم کی درمیانی کڑیاں انسانی تخیل پر چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقاتی مجلس کا منظر :

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ : اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا تمہارا کیا تجربہ ہے اس وقت کا جب تم نے یوسف کو رجھانے کی کوشش کی تھی ؟

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر کے گھر کیا ہوتا رہا ؟ پھر عورتوں نے اپنی مجلس میں جو گفتگو کی وہ پہلے ریکارڈ ہوچکی ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کسی قوم پر خوشحالی آتی ہے تو اس کے اعلی طبقات کی عورتوں میں اس قسم کی اخلاقی گراوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ اگرچہ ان کا ماحول پسماندہ ہو زیر بحث جاہلیت تو قدیم تاریخ کی جاہلیت ہے لیکن جاہلیت جس دور میں بھی ہو ، وہ جاہلیت ہوتی ہے اور ہر جگہ اس کے خدوخال وہی ہوتے ہیں اور اس کے خوشحال طبقات فسق و فجور میں ڈوب جاتے ہیں۔

اب شاہی دربار میں منعقد ہونے والی تحقیقاتی مجلس میں ان عورتوں کے لیے مقام نہ تھا کہ وہ کوئی اور جھوٹ تصنیف کریں۔

قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوء : سب نے یک زبان ہوکر کہا " حاشا للہ " ہم نے تو اس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا۔

یہ حقیقت تھی ، اب ان کے لیے مشکل تھا۔ یہ عورتیں نہایت ہی بدکار اور بےباک تھیں مگر معاملہ اس قدر واضح تھا کہ انکار کی کوئی صورت نہ رہی تھی۔

اب وہ عورت سامنے آتی ہے جو یوسف کی محبت میں گرفتار تھی۔ جو ان سے مایوس ہوگئی تھی لیکن وہ ان کے ساتھ وابستگی کو کاٹ نہ سکی تھی۔ یہ عورت سامنے آتی ہے اور صراحت کے ساتھ اقرار جرم کرتی ہے اور یوسف کی پاکی کی بشارت دیتی ہے۔

قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ : عزیز کی بیوی بول اٹھی اب حق کھل چکا ہے ، وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی وکشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے۔

اب بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ سچائی سامنے آگئی ہے۔ میں ہی تھی جس نے اسے ورغلانے کی کوشش کی۔

انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین : وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی ، بےشدک وہ بالکل سچا ہے۔ اس نے جس انداز میں شہادت دی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اب بھی حضرت یوسف کی ہمدردی حاصل کرنے کی امدی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت یوسف کے عقائد اور نظریات اس کے دل میں گھر کر گئے ہیں اور وہ ایمان لے آئی ہو۔ اسی لیے وہ کہتی ہے ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ : یہ اس لیے کہ عزیز مصر جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ، اللہ ان کی چالوں کو کامیابی کی راہ پر نہیں ڈالتا۔