Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
12:30
۞ وقال نسوة في المدينة امرات العزيز تراود فتاها عن نفسه قد شغفها حبا انا لنراها في ضلال مبين ٣٠
۞ وَقَالَ نِسْوَةٌۭ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ٣٠
۞ وَقَالَ
نِسۡوَةٞ
فِي
ٱلۡمَدِينَةِ
ٱمۡرَأَتُ
ٱلۡعَزِيزِ
تُرَٰوِدُ
فَتَىٰهَا
عَن
نَّفۡسِهِۦۖ
قَدۡ
شَغَفَهَا
حُبًّاۖ
إِنَّا
لَنَرَىٰهَا
فِي
ضَلَٰلٖ
مُّبِينٖ
٣٠
Dan (sesudah itu) perempuan-perempuan di bandar Mesir (mencaci hal Zulaikha dengan) berkata: Isteri Al-Aziz itu memujuk hambanya (Yusuf) berkehendakkan dirinya, sesungguhnya cintanya (kepada Yusuf) itu sudahlah meresap ke dalam lipatan hatinya; sesungguhnya kami memandangnya berada dalam kesesatan yang nyata."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 12:30 hingga 12:34

اس قصہ میں ایک طرف مصر کے اونچے طبقہ کی خواتین تھیں اور دوسری طرف حضرت یوسف۔ خواتین آپ کو بس ایک خوب صورت جوان کی صورت میں دیکھ رہی تھیں۔ اسی طرح حضرت یوسف ان خواتین کو تسکین نفس کے سامان کے روپ میں دیکھ سکتے تھے۔ مگر انتہائی ہیجان خیز حالات میں بھی آپ نے ایسا نہیں کیا۔

خواتین کا حال یہ تھا کہ وہ سب کی سب آپ کی پُرکشش شخصیت کی طرف متوجہ تھیں۔ حتی کہ شدّت محویت میں انھوں نے چھری سے پھل کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ زخمی کرليے۔ مگر حضرت یوسف اپنی تمام تر توجہ خدا کی طرف لگائے ہوئے تھے۔ خدا کی عظمت وکبریائی کااحساس آپ کے اوپر اتنا غالب آچکا تھا کہ کوئی دوسری چیز آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی— کتنا فرق ہے ایک انسان اور دوسرے انسان میں۔