Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
20:10
اذ راى نارا فقال لاهله امكثوا اني انست نارا لعلي اتيكم منها بقبس او اجد على النار هدى ١٠
إِذْ رَءَا نَارًۭا فَقَالَ لِأَهْلِهِ ٱمْكُثُوٓا۟ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًۭا لَّعَلِّىٓ ءَاتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدًۭى ١٠
إِذۡ
رَءَا
نَارٗا
فَقَالَ
لِأَهۡلِهِ
ٱمۡكُثُوٓاْ
إِنِّيٓ
ءَانَسۡتُ
نَارٗا
لَّعَلِّيٓ
ءَاتِيكُم
مِّنۡهَا
بِقَبَسٍ
أَوۡ
أَجِدُ
عَلَى
ٱلنَّارِ
هُدٗى
١٠
Ketika ia melihat api, lalu berkatalah ia kepada isterinya: "Berhentilah! Sesungguhnya aku ada melihat api semoga aku dapat membawa kepada kamu satu cucuhan daripadanya, atau aku dapat di tempat api itu: penunjuk jalan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 20:9 hingga 20:10

حضرت موسیٰ مصر میں پیدا ہوئے۔ وہاں ایک موقع پر ایک قبطی ان کے ہاتھ سے ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد وہ مصر سے نکل کر مدین چلے گئے۔ وہاں وہ کئی سال تک رہے۔ وہیں ایک خاتون سے نکاح کیا اور پھر اپنی اہلیہ کو لے کر واپس مصر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس وقت آپ کے ساتھ بکریاں بھی تھیں۔

حضرت موسیٰ اس سفر میں جزیرہ نمائے سینا کے جنوب میں وادی طور کے علاقہ سے گزر رہے تھے۔ رات ہوئی تو تاریکی میں راستہ کا اندازہ نہیں ہورہا تھا۔ مزید یہ کہ یہ سخت سردی کا موسم تھا۔ اسی دوران انھیں دکھائی دیاکہ دور ایک آگ جل رہی ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ اس کے رخ پر روانہ ہوئے تاکہ سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے آگ حاصل کریں اور وہاں کچھ لوگ ہوں تو ان سے راستہ معلوم کریں۔