Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Saba' 34:41

34:41
قالوا سبحانك انت ولينا من دونهم بل كانوا يعبدون الجن اكثرهم بهم مومنون ٤١
قَالُوا۟ سُبْحَـٰنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم ۖ بَلْ كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ ٱلْجِنَّ ۖ أَكْثَرُهُم بِهِم مُّؤْمِنُونَ ٤١
قَالُواْ
سُبۡحَٰنَكَ
أَنتَ
وَلِيُّنَا
مِن
دُونِهِمۖ
بَلۡ
كَانُواْ
يَعۡبُدُونَ
ٱلۡجِنَّۖ
أَكۡثَرُهُم
بِهِم
مُّؤۡمِنُونَ
٤١
Malaikat menjawab: "Maha Suci Engkau (dari adanya sebarang sekutu denganMu). Engkaulah (yang kami hubungi sebagai Pemimpin dan) Pelindung kami bukan mereka. (Tidak ada hubungan dari pihak kami dengan mereka mengenai penyembahan mereka kepada kami), bahkan mereka adalah menyembah Jin Syaitan; kebanyakan mereka pula percaya kepada Jin Syaitan itu (sebagai sekutu Tuhan yang dipuja dan dipatuhi)".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 34:40 hingga 34:42

ویوم یحشرھم جمیعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنتم بھا تکذبون (40 – 42)

ان فرشتوں کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے یا ان کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ اب ان کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ گویا یہ بندگی اور عبادت ان کی جانب سے لغو اور کالعدم حرکت تھی۔ گویا یہ ہوئی ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بندگی دراصل شیطان کی بندگی کرتے تھے تو گویا شیطان کی بندگی کرتے تھے۔ جنوں کی بندگی تو عربوں میں ۔۔۔ تھا۔ بعض لوگ ایسے تھے جو جنوں کی بندگی بھی کرتے تھے اور ان سے استعانت بھی کرتے تھے۔

بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون (34: 41) ” دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے تھے “۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قصہ سلیمان (علیہ السلام) کا ان مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ قرآن کریم کا خاص انداز ہے کہ قصص سورة کے موضوع سے مربوط ہوتے ہیں۔

یہ منظر اسکرین پر چل رہا تھا کہ اچانک کلام کا اسلوب بدل جاتا ہے اور براہ راست خطاب شروع ہوجاتا ہے اور یہ شرمسار کنندہ باتیں ان سے کہی جاتی ہیں۔

فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولاضرا (34: 42) ” آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان “۔ نہ فرشتے کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ نہ یہ کفار ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ وہ آگ جس کی ظالم تکذیب کرتے تھے اور جس کے بارے میں وہ مطالبہ کرتے تھے کہ لاؤ وہ آگ ، اسے اب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔

ونقول للذین ۔۔۔۔۔ بھا تکذبون (34: 42) ” اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوجاتا ہے جس کا مرکزی مضمون حساب و کتاب ، سزا و جزاء اور قیام قیامت ہے ، جس طرح دوسرے اسباق کا بھی یہی مضمون رہا ہے۔