Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
31:8
ان الذين امنوا وعملوا الصالحات لهم جنات النعيم ٨
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُمْ جَنَّـٰتُ ٱلنَّعِيمِ ٨
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
لَهُمۡ
جَنَّٰتُ
ٱلنَّعِيمِ
٨
Sesungguhnya orang-orang yang beriman dan beramal soleh, mereka akan beroleh Syurga yang penuh dengan berbagai nikmat,
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 31:6 hingga 31:9

باتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک نصیحت اور دوسري تفریح۔ نصیحت کی بات ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ وہ آدمی سے کچھ کرنے اور کچھ نہ کرنے کےلیے کہتی ہے۔ اس ليے ہر دور میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نصیحت کی باتوں سے دلچسپی لیں۔ انسان کا عام مزاج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ تفریح کی باتوں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ وہ نصیحت کی ’’کتاب‘‘ کے مقابلہ میں اس کتاب کا زیادہ خریدار بنتا ہے جس میں اس کےلیے ذہنی تفریح کا سامان ہو اور وہ اس سے کچھ کرنے کےلیے نہ کہے۔

جس شخص کا حال یہ ہو کہ وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کو اس قسم کی تفریحی باتوں میں مشغول کرنے لگے وہ زیادہ بڑا مجرم ہے۔ کیوں کہ وہ اس ذہنی بے راہ روی کا قائد بنا۔ اس نے لوگوں کے ذہن کو بے فائدہ باتوں میں مشغول کرکے انھیں اس قابل نہ رکھا کہ وہ زیادہ سنجیدہ باتوں میں دھیان دے سکیں۔

سب سے بری نفسيات گھمنڈ کی نفسیات ہے۔ جو شخص گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہو اس کے سامنے حق آئے گا مگر وہ اپنے کو بلند سمجھنے کی وجہ سے اس کا اعتراف نہیں کرے گا۔ وہ اس کو حقارت کے ساتھ نظر انداز کرکے آگے بڑھ جائے گا۔ اس کے برعکس معاملہ اہلِ ایمان کا ہے۔ ان کا نصیحت پسند مزاج انھیں مجبور کرتاہے کہ وہ سچائی کا اعتراف کریں، وہ اپنی زندگی کو تمام تر اس کے حوالہ کردیں۔