Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
31:4
الذين يقيمون الصلاة ويوتون الزكاة وهم بالاخرة هم يوقنون ٤
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ٤
ٱلَّذِينَ
يُقِيمُونَ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَيُؤۡتُونَ
ٱلزَّكَوٰةَ
وَهُم
بِٱلۡأٓخِرَةِ
هُمۡ
يُوقِنُونَ
٤
Iaitu orang-orang yang mendirikan sembahyang, dan memberi zakat, serta mereka yakin tentang adanya hari akhirat.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 31:1 hingga 31:5

احسان کا اصل مفہوم ہے کسی کام کو اچھی طرح کرنا۔ محسن کے معنی ہیں اچھی طرح کرنے والا۔ اس دنیا میں کسی کام کے اچھے ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ حقیقت ِ واقعہ کے مطابق ہو۔ اس اعتبار سے محسن وہ شخص ہے جو حقیقت واقعہ کا اعتراف کرے، جس کاعمل وہی ہو جو ہونا چاہيے اور وہ نہ ہو جو نہیں ہونا چاہيے۔

جو لوگ اپنے آپ کو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ڈھالنے کا مزاج رکھیں وہی وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے صداقت آتی ہے تو وہ کسی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو مان لیتے ہیں۔ وہ فوراً ہی اس کے عملی تقاضے پورے کرنے لگتے ہیں— وہ نمازی بن جاتے ہیں جو خدا کا حق ادا کرنے کی ایک علامت ہے۔ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو گویا مال کے دائرے میں بندوں کاحق ادا کرنا ہے۔ وہ دنیا پرستی کو چھوڑ کر آخرت پسند بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ کامیابی اور ناکامیابی کا فیصلہ آخر کار جہاں ہونا چاہيے وہ آخرت ہی ہے۔